✕

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریٹیلرز کے لیے آسان ٹیکس اسکیم کو توقع کے مطابق پذیرائی نہ ملنے کے بعد جمعہ سے تاجروں کے نمائندوں کے تعاون سے ملک بھر میں مارکیٹوں اور دکانوں کی میپنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مزید ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

یہ فیصلہ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت آسان ٹیکس اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں تاجر رہنماؤں اجمل بلوچ، کاشف چوہدری اور حبیب فخرالدین نے شرکت کی، جبکہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اور ملک بھر کے چیف کمشنرز و کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

ایف بی آر کے مطابق ملک بھر میں واپڈا کے تقریباً 43 لاکھ کمرشل بجلی میٹرز موجود ہیں، تاہم صرف تقریباً 6 لاکھ کمرشل میٹر ہولڈرز نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔

ایف بی آر نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان میں تقریباً 2 لاکھ ریٹیلرز کی آسان ٹیکس اسکیم میں رضاکارانہ شمولیت متوقع ہے، جبکہ باقی ریٹیلرز کو نفاذی کارروائی کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔

ایف بی آر افسران روزانہ کے شیڈول کے مطابق تاجر نمائندوں کے ہمراہ مارکیٹوں کا دورہ کریں گے اور ہر مارکیٹ اور دکان کی میپنگ کے ساتھ دکانداروں کو آسان ٹیکس اسکیم سے آگاہ بھی کریں گے۔ بلال اظہر کیانی نے ہدایت کی کہ فیلڈ افسران میپنگ کے دوران تاجر نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور رجسٹریشن و گوشوارے جمع کرانے سے متعلق دکانداروں کے تحفظات دور کریں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تاجروں کی نشاندہی پر ٹیکس گوشواروں میں دیگر آمدن‘ کے کالم سے متعلق تکنیکی مسئلہ حل کردیا گیا ہے۔

کاشف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال تقریباً 2 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوئے جبکہ تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار ریٹیلرز نے آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹریشن کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جرمانوں سے پہلے تاجروں میں آگاہی پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور جرمانے آخری اقدام ہونے چاہئیں۔

بلال اظہر کیانی نے دکانداروں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے دی گئی 15 روزہ توسیع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026