✕
دنیا

تازہ ترین تجویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا، واشنگٹن عراق سے انخلا کر رہا ہے، ایران

  • یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے خلیج میں ناکام ہونے والی جنگ بندی کو بحال کرنے سے متعلق تہران کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسے خلیج میں ختم ہوجانے والی جنگ بندی بحال کرنے کی اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے کہ انہوں نے تہران کی یہ تجویز مسترد کردی تھی۔

ایران کے اتحادیوں نے بدھ کو امریکا کی جانب سے پڑوسی ملک عراق سے اپنے آخری فوجیوں کے انخلا کے بعد جشن منایا، جہاں رواں صدی کی امریکا کی سب سے بڑی جنگ میں 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 2003 میں امریکی افواج کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی مارے گئے تھے۔

تہران اس انخلا کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’محورِ مزاحمت‘‘ کی فتح اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا کے اپنے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جنگ کو اب آٹھواں ماہ شروع ہوچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران سات روز کے اندر متاثرہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔

ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے یہ تجویز مسترد کردی ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کو امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے بدھ کو ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ عراقچی نے ایرانی حکومت کو امریکا کا جواب پہنچا دیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایک عبوری معاہدے کو بحال کرنا ہے، جو جون میں ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخطوں کے چند ہفتے بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔

گزشتہ ہفتے قطری ثالث نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پیغامات لے کر آتے جاتے رہے۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں متحارب فریقوں کے درمیان یہ پہلی بالواسطہ بات چیت تھی۔

بات چیت سے باخبر ایک عہدیدار نے، جو ایرانی نہیں اور جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کی، بتایا کہ عراقچی نے نیویارک سے واپسی پر منگل کو دوحہ میں مختصر قیام کے دوران قطری حکام سے امریکی جواب حاصل کیا۔ عہدیدار کے مطابق دونوں فریق بڑی حد تک ان اقدامات پر متفق ہیں جو ضروری ہیں، تاہم انہیں کس ترتیب سے کیا جائے، اس پر اب بھی اختلاف ہے۔

ایران چاہتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو، جو دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی گزرگاہ ہے اور ایرانی ساحل کے ساتھ واقع ہے۔

حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور حملوں کے خطرے کے باوجود سفر کرنے والے جہازوں سے بھاری فیس وصول کی جا رہی ہے۔ تاہم خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور قدرتی گیس کی ترسیل اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہے۔ تازہ ترین واقعات میں برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے یوکے ایم ٹی او نے بدھ کو بتایا کہ ایک روز قبل دو بحری جہازوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

عراق میں امریکی انخلا کو واشنگٹن کی شکست قرار دیا گیا

امریکی اور عراقی حکام نے بدھ کو عراق کے فوجی اڈوں سے آخری امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا۔ یہ انخلا 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے منصوبے کے تحت ہوا، جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے عمل درآمد کیا، جبکہ اسی دوران وہ پڑوسی ملک ایران کے خلاف جنگ بھی لڑ رہی ہے۔

ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی انخلا کا خیرمقدم کیا۔ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘‘ کے ایک کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسیری نے اسے ’’عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست‘‘ قرار دیا۔

امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کرکے قبضہ کیا تھا، جبکہ تہران نے وہاں وسیع سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ قائم کرلیا ہے۔

عراق اکثر امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جنگ کا میدان بنتا رہا ہے۔ فروری میں ٹرمپ کی جانب سے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ شروع کیے جانے کے بعد سے ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے۔ واشنگٹن عراق میں موجود گروہوں پر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتا ہے، جنہوں نے حال ہی میں تین ہفتے قبل سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی ناکارہ بنا دیا تھا۔

بغداد میں مقیم سیاسی تجزیہ کار احمد یونس نے کہا کہ امریکی انخلا سے ’’اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مغربی فوجی موجودگی نہ ہونے کے باعث ایران کے اتحادی مزید بااختیار محسوس کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’یہ گروہ ریاستی پالیسیوں کی تشکیل میں اپنا کردار بڑھانے اور اہم اداروں میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘

امریکا میں رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ابتدا ہی سے غیر مقبول رہی ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو بھی متاثر کیا ہے، جو پانچ ہفتے بعد ہونے والے قانون ساز انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ کے اتحادیوں کو انتخابات میں شکست دیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکی ووٹروں کے نام 26 صفحات پر مشتمل خط میں کہا، ’’ان بدعنوان، دھوکے باز اور پرتشدد سیاست دانوں کو اقتدار سے ہٹائیں جو امریکا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا، ’’یقینی بنائیں کہ آپ کے سیاست دان سمجھ جائیں کہ دنیا بدل چکی ہے۔‘‘

جنگ نے ایران میں جاری معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، تاہم تہران نے اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی اور ایران بالآخر ہتھیار ڈال دے گا۔

انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں، لیکن وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ وہ بہت بری حالت میں ہیں۔‘‘