کیریک اجلاس میں پاکستان کی سرحدی نظام کو مصنوعی ذہانت سے ڈیجیٹل بنانے کی تجویز
- پاکستان تعاون کے فروغ کے لیے جغرافیائی معاشیات سے فائدہ اٹھانے کےلیے تیار ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (کیریک) خطے میں کسٹمز قوانین کو ہم آہنگ کرنے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سرحدی نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا ہے۔
کیریک وزارتی کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ خطے کو محض رابطوں پر بات کرنے کے بجائے عملی تجارتی راہداریوں کی تشکیل کی جانب بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کسٹمز قوانین میں ہم آہنگی، سرحدی نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور مال برداری کی رفتار متاثر کرنے والی تاخیر ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کیریک ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام کی پاکستان کی تجویز اور تجارت و علاقائی رابطوں کو تیز، مؤثر اور زیادہ پیداواری بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی اجاگر کیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، چین اور بحیرہ عرب کو ملانے والے اہم جغرافیائی محل وقوع کے باعث پاکستان تعاون کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خطے میں مشترکہ خوشحالی کے لیے جغرافیائی معاشیات کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی خوشحالی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ممالک کس مؤثر انداز میں مل کر کام کرتے، مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیتے اور سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے کھولتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں اکیلے خطے میں درکار بڑے پیمانے کے رابطوں کا نظام قائم نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو فعال بناکر اور سرکاری و نجی شراکت داری مضبوط کرکے کیریک ممالک سڑکوں، ریلوے، بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری تیز کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان 2027 میں اگلی کیریک کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے دوران عملی تعاون کو آگے بڑھانا ترجیح ہوگی، تاکہ معیشتوں کو جوڑا، تجارت کو سہولت دی اور خطے کے جغرافیائی محل وقوع کو مشترکہ مواقع میں تبدیل کیا جاسکے۔