✕
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی پر توجہ مرکوز، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

  • برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.96 ڈالر یا 1.86 فیصد کمی سے 103.32 ڈالر فی بیرل پر آگئے
شائع اپ ڈیٹ

تیل کی قیمتیں منگل کو کم ہوگئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار اور خطے میں امریکی و اسرائیلی ایران جنگ کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات پر مرکوز رہی۔

گرینچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق 1306 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.96 ڈالر یا 1.86 فیصد کمی سے 103.32 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.95 ڈالر یا 2.11 فیصد کمی سے 90.65 ڈالر فی بیرل رہا۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں رواں ماہ بالترتیب تقریباً 14 فیصد اور 5.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’خلیج سے تیل کی برآمدات میں اضافے کی ایک واضح تصویر سامنے آرہی ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ اب بھی بحری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی جیسے متبادل طریقوں پر منحصر ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ طریقے معمول کی کارروائیوں کے مقابلے میں کم مؤثر اور زیادہ مہنگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔‘‘

تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل بھی بحال کردی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی ترسیل میں اضافے نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔

یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں منگل کو معمولی کمی کے بعد تقریباً 1,379 ڈالر فی میٹرک ٹن رہی۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی حمایت کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ قیمت 1,535 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ رواں سال اب تک یورپ میں ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔

دونوں ممالک کے حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے حکام نے الگ الگ ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی، جس کا مقصد سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوشش کرنا تھا۔

تاہم ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے انہوں نے ایران کو کوئی پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔

دریں اثنا، امریکا میں قیمتیں کم کرنے کے لیے سرخ رنگ والے ڈیزل کی وسیع پیمانے پر فروخت کی اجازت دینے کی غرض سے ضوابط میں نرمی پر غور کیا جارہا ہے۔ معاملے سے واقف افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ تجویز ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے متبادل کے طور پر نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔

پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ قربت سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والی خبریں ٹھوس معاہدوں کے بجائے محض خواہشات پر مبنی دکھائی دیتی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکی صدر اب بھی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی اور زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے ’سرخ‘ ڈیزل کے ٹیکس نظام میں ردوبدل پر غور کیوں کرتے، جبکہ ان کے خیال میں تیل کی مصنوعات جلد ان آبناؤں سے دوبارہ گزرنا شروع ہوجاتیں جہاں آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے پیدا کی گئی رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے؟‘‘

رائٹرز کے پیر کو کیے گئے ایک ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی متوقع تھی، جبکہ ڈیزل سمیت کشید شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں ممکنہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔