✕
Perspectives

سستے ڈرون جنگ کی معاشیات کو کس طرح بدل رہے ہیں؟

  • جدید افواج کو انتہائی جدید ہتھیاروں کے ساتھ بڑی تعداد میں استعمال کیے جانے والے کم لاگت والے ہتھیاروں کی بھی ضرورت ہے
شائع اپ ڈیٹ

مئی 2026 میں تقریباً 2 ہزار ڈالر مالیت کے ایک یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرون نے کیف کے اوپر ایک روسی ’شاہد‘ ڈرون کا تعاقب کرکے اسے نشانہ بنایا۔ ’شاہد‘ کی تیاری پر تقریباً 35 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ اس کام کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والے میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ایک واقعہ اس بات کی مکمل عکاسی کرتا ہے کہ جنگی معیشت کس طرح یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور دنیا کی طاقتور ترین افواج کو خود کو بدلتی صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیوں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

کئی دہائیوں تک دفاعی شعبے کی معاشیات ایک ہی سمت میں آگے بڑھتی رہی: لاگت میں مسلسل اضافہ۔ لڑاکا طیارے زیادہ جدید اور انتہائی مہنگے ہوتے گئے، میزائل زیادہ درست اور زیادہ پرتعیش ہوتے گئے، جبکہ جنگی جہاز اس قدر پیچیدہ اور جدید ہوگئے کہ بحری افواج ان کی تعداد کم رکھنے پر مجبور ہوگئیں۔ ٹیکنالوجی میں برتری کا مطلب یہ تھا کہ انتہائی جدید اور مہنگی مشینیں کم تعداد میں تیار کی جائیں اور ان کی دیکھ بھال پر بھی بھاری اخراجات کیے جائیں۔

پھر 5 ہزار ڈالر سے کم قیمت والا ڈرون منظرنامے میں آگیا، جو ایک استعمال شدہ گاڑی سے بھی سستا ہے، جسے لان موور یا موپیڈ کے عام دستیاب انجنوں سے تیار کیا جاسکتا ہے اور جو اپنا ہدف تباہ کرتے ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ ان اڑنے والے ہتھیاروں نے انتہائی درست حملوں کو ایک تیزی سے بدلتے اور کم لاگت والے جنگی طریقے میں تبدیل کردیا ہے۔

یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے دفاعی نظام کے پرانے ماڈل میں موجود ایک ہی کمزوری کو نمایاں کردیا ہے۔ اب چند ہزار ڈالر میں ایک سادہ خودکار ہتھیار تیار کرکے کسی ہدف کی جانب ایک ہی رات میں درجنوں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں بھیجا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب نشانہ بننے والے ملک کو اکثر ایسے دفاعی انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت لاکھوں یا سیکڑوں ہزاروں ڈالر تک ہوتی ہے۔

آپ ہر انفرادی ڈرون کو کامیابی سے روکنے کے باوجود جنگی اخراجات کے حساب میں شکست کھا سکتے ہیں۔ اور اس میں ان ڈرونز کی لاگت بھی شامل نہیں جو دفاعی حصار توڑ کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ ہر ڈرون کو روکنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ جو نقصان پہنچتا ہے وہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی باقی ڈرونز کو روکنے پر آنے والی لاگت۔

یوکرین — متاثر بھی اور عملی طور پر استعمال کرنے والا بھی

روس نے صرف 2025 میں یوکرین کے خلاف تقریباً 54 ہزار طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون استعمال کیے، جبکہ بعض راتوں میں ان کی تعداد 500 سے بھی زیادہ رہی۔ یوکرین نے اس کے جواب میں کم لاگت والے ڈرون شکن نظام تیار کیا ہے، جس میں عموماً ایک ہزار سے 3 ہزار ڈالر مالیت کے ایسے انٹرسیپٹر ڈرون شامل ہیں جنہیں ’شاہد‘ طرز کے ڈرونز کا تعاقب کرکے انہیں تباہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔

مئی 2026 تک یہ نظام ملک بھر میں روس کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز میں سے 91.7 فیصد کو روکنے میں کامیاب رہا، جبکہ فروری میں کیف کے اوپر اس کی شرح تقریباً 70 فیصد تھی۔

تاہم یوکرین صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔ اس کی اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون مہم نے روس کی 10 بڑی آئل ریفائنریوں میں سے 8 کو نشانہ بنایا، بعض کو ایک سے زیادہ مرتبہ، جبکہ ان میں سے ایک ریفائنری سرحد سے تقریباً ایک ہزار میل دور واقع ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ پیداوار کئی ماہ تک متاثر رہی اور سائبیریا تک ایندھن کی قلت پیدا ہونے میں بھی اس مہم نے کردار ادا کیا۔

یہی سستے ڈرون کی معاشیات کا دوسرا رخ ہے: یوکرین روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو اس کی مجموعی مالیت کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت سے شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ نے اسی مسئلے کی ایک زیادہ بڑے پیمانے اور تیز رفتار شکل ہمارے سامنے پیش کی۔ 2026 کی امریکا ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے امریکی، اسرائیلی اور خلیجی اہداف پر روزانہ تقریباً 700 ڈرون اور میزائل داغے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکا اور اس کے شراکت داروں کے مشترکہ فضائی دفاعی نظام نے 6 ہزار سے زیادہ یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور 1,500 سے زائد بیلسٹک میزائل مار گرائے۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق اس کارروائی پر مجموعی طور پر 34 سے 42 ارب ڈالر تک لاگت آئی۔

ایران کے ’شاہد‘ خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈرونز کی قیمت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار ڈالر فی ڈرون ہے۔ لاگت کا یہ تناسب حیران کن ہے: 35 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ایسا جوابی اقدام کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی لاگت اس سے سیکڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دفاعی نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوا اور جو حملے دفاعی حصار توڑ کر اپنے اہداف تک پہنچے، ان کے نتائج سنگین تھے۔ 22 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ قطر میں واقع العدید ایئربیس، جو خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، ایرانی بیلسٹک میزائل کے براہِ راست حملے کی زد میں آیا۔

کویت کے علی السالم اڈے پر ایک حملے میں ایک اطالوی ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوگیا، جبکہ دو یوروفائٹر ٹائفون طیاروں کو نقصان پہنچا۔ ڈرونز نے کویت کی ایک آئل ریفائنری اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

متحدہ عرب امارات پر ایک حملے میں ایک شہری ہلاک ہوا، جبکہ الظفرہ ایئربیس کے قریب تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ امریکی بحریہ کے خطے میں علاقائی ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرنے والے بحرین کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔

یہ سب کچھ اس بنیادی حساب کو تبدیل نہیں کرتا کہ ایران نے اس کے خلاف دفاع کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کہیں کم رقم خرچ کی۔ تاہم اس مساوات میں کم لاگت والے فریق کا فائدہ صرف اخراجات برداشت کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے مہنگے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو بھی تباہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں روکنا کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، ممالک اس صلاحیت میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام تباہ کیے جانے کے بعد جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا تناسب بدل گیا۔ 26 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کم اور ایک لاکھ ڈالر مالیت کے جے ڈی اے ایم رہنمائی یافتہ بموں کا استعمال زیادہ ہوگیا، جس سے جنگ کی یومیہ لاگت میں نمایاں کمی آئی۔

اس سے ایک بنیادی سبق برقرار رہتا ہے: ایسے ہتھیاروں کے خلاف دفاع صرف ایک مہنگے نظام کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔ سستے خطرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت والے ذرائع درکار ہوتے ہیں جبکہ مہنگے نظام ان خطرات کے لیے محفوظ رکھنے چاہییں جہاں واقعی ان کی ضرورت ہو۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ آپ خواہ کوئی بھی دفاعی نظام تیار کرلیں، ان میں سے کچھ حملہ آور ہتھیار بہرحال اپنا راستہ بنا لیں گے۔

روس کا مسلسل جدید بنایا جانے والا ہتھیار

روس نے ایرانی ساختہ ’شاہد‘ ڈرون کے ڈیزائن کو ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل کردیا ہے جسے مسلسل اپ ڈیٹ کیے جانے والے سافٹ ویئر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ ابتدائی ماڈلز میں جی پی ایس کو جڑتی نیویگیشن کے نظام کے ساتھ مل کر استعمال کیا جاتا تھا۔ یوکرین کی جانب سے ریڈیو سگنلز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت بہتر ہونے کے ساتھ روس نے پہلے ایسے اینٹینا نصب کیے جو جیمنگ کے خلاف مزاحمت رکھتے تھے، پھر کیمرے شامل کیے گئے، اس کے بعد مقامی سم کارڈز پر چلنے والے راسپ بیری پائی کمپیوٹرز اور فور جی موڈمز کو متبادل مواصلاتی ذریعے کے طور پر شامل کیا گیا۔

کچھ نئے ماڈلز اب 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ایک دوسرے کو سگنل منتقل کرسکتے ہیں، جبکہ بعض کو فائبر آپٹک ڈرونز کے ساتھ جوڑا گیا ہے جنہیں جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

ان میں سے کوئی بھی انفرادی ٹیکنالوجی جدید ترین یا غیر معمولی نوعیت کی نہیں۔ لیکن ان سب کو یکجا کرنے سے ایک ایسا ہتھیار وجود میں آتا ہے جو حملوں اور رکاوٹوں کے باوجود مؤثر رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی ایسے ہتھیار کی تیاری کے لیے، جسے روکنا مشکل ہو، لازماً ایک غیرمعمولی مصنوعی ذہانت کے نظام کی ضرورت نہیں؛ اس مقصد کے لیے کئی کم لاگت والے نظاموں کو تہہ در تہہ جوڑنا بھی کافی ہوسکتا ہے۔

امریکا بھی اس حقیقت کو سمجھنے لگا ہے

ایران جنگ کے دوران امریکی فوج نے تقریباً 15 ہزار ڈالر فی یونٹ کی لاگت سے 13 ہزار ’میروپس‘ انٹرسیپٹر ڈرونز کا ہنگامی آرڈر دیا، اس امید کے ساتھ کہ بڑے پیمانے پر تیاری کے نتیجے میں فی ڈرون لاگت 10 ہزار ڈالر سے بھی کم ہوجائے گی۔ ان ڈرونز کا مقصد 30 ہزار سے 50 ہزار ڈالر مالیت کے ’شاہد‘ طرز کے اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔ پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ میں ابتدائی طور پر 30 ہزار ڈرونز تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن کی اوسط قیمت تقریباً 5 ہزار ڈالر فی ڈرون رکھی گئی۔ پروگرام کے بعد کے مراحل میں تقریباً 2,300 ڈالر فی ڈرون کی لاگت سے 1 لاکھ 50 ہزار یونٹس تک تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام صرف طویل فاصلے تک حملوں تک محدود نہیں، بلکہ ’گینٹلیٹ ٹو‘ میں قریبی فاصلے کے ایسے مشنز بھی شامل ہیں جن میں عمارتوں، خندقوں، بنکرز اور دیگر محدود جگہوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔

امریکا کی وسیع تر حکمت عملی میں اب دفاعی نظاموں کی درجہ بندی صرف بلندی کے اعتبار سے نہیں بلکہ لاگت کے لحاظ سے بھی کی جارہی ہے: سب سے اوپر پیٹریاٹ اور تھاڈ، درمیانی سطح پر نسبتاً سستے میزائل اور طیارے، جبکہ نچلی سطح پر توپیں اور خودکار انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔ تاہم اس حکمت عملی کی ایک حقیقی حد بھی موجود ہے۔ جنگ سے پہلے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار ماہانہ صرف 60 سے 65 میزائل تک تھی، اور دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی انٹرسیپٹرز کو اس رفتار سے استعمال کررہی تھی کہ فیکٹریاں انہیں اتنی تیزی سے دوبارہ تیار نہیں کرپارہی تھیں۔ چند درجن انتہائی مہنگے اور پیچیدہ میزائل تیار کرنے والی پیداواری لائن کے ذریعے ایسے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا جو ہر ماہ ہزاروں کم لاگت والے ڈسپوزیبل ڈرون تیار کررہا ہو۔

ڈیفنس انوویشن یونٹ کے نائب ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ افسر ٹریوس میٹز، جو گزشتہ موسم خزاں سے پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ کی نگرانی کررہے ہیں، نے بتایا کہ یوکرین رواں سال 60 لاکھ سے 70 لاکھ چھوٹے ’فرسٹ پرسن ویو‘ حملہ آور ڈرون تیار کرے گا، یعنی تقریباً 5 لاکھ ڈرون ماہانہ۔

اس سے حقیقتاً کیا تبدیلی آئے گی؟

اس تمام پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ ایک کروڑ ڈالر مالیت کا لڑاکا طیارہ بے کار ہوگیا ہے۔ تاہم اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ جدید افواج کو صلاحیت کے دونوں سروں کی ضرورت ہے: انتہائی جدید اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہتھیار بھی اور بڑی تعداد میں استعمال کیے جانے والے کم لاگت والے ہتھیار بھی۔ بڑے پیمانے پر تیاری کا فائدہ حملے اور دفاع، دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔ ایک سستے ڈرون کو بہتر نیویگیشن، سیلولر رابطے، میش نیٹ ورکنگ اور کچھ مصنوعی ذہانت فراہم کردی جائے تو اس کی صلاحیت میں اضافہ اس کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ہوسکتا ہے۔ یوں یہ پرانا مفروضہ بدل جاتا ہے کہ زیادہ ذہین اور جدید نظام لازماً زیادہ مہنگا بھی ہوگا۔

اگلی ہتھیاروں کی دوڑ کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ کون سب سے بہترین میزائل یا لڑاکا طیارہ تیار کرتا ہے۔ اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون کم لاگت کے ہارڈویئر، جدید سافٹ ویئر، مزاحمت رکھنے والی نیویگیشن اور بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت کو سب سے تیزی سے یکجا کرسکتا ہے، جبکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دفاع کتنا ہی مؤثر کیوں نہ ہو، مخالف کی جانب سے داغے گئے کچھ ہتھیار پھر بھی اپنے ہدف تک پہنچ جائیں گے۔

یہ مضمون ضروری نہیں کہ ’بزنس ریکارڈر‘ یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔