امریکا، ایران کے ثالثوں سے پیر یا منگل کو الگ الگ مذاکرات کا امکان، عہدیدار
- ایران اور امریکا کے درمیان نیویارک میں ثالثی کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، جن میں پابندیاں ختم کرنے اور اہم آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی جا رہی ہے
قطری ثالث پیر یا منگل کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اور الگ سے امریکی حکام سے مذاکرات کریں گے، یہ بات مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتائی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے یہ ایک نئی سفارتی کوشش ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔
عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد بدستور نیویارک میں موجود ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں امریکی فریق کی نمائندگی کون کرے گا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی ایس این اے‘ نے بعد ازاں تصدیق کی کہ عراقچی پیر کی صبح امریکی وقت کے مطابق نیویارک میں ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔
آئی ایس این اے نے مزید کہا کہ دونوں فریق ”موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین تجاویز اور مؤقف کا جائزہ لیں گے۔“
ایران کی سات روزہ تجویز میں ملک اور لبنان میں تمام دشمنانہ کارروائیاں ختم کرنے، اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا عمل ختم کرنے، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے بعد تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اجازت دے گا، جبکہ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی دوبارہ شروع کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی تجویز مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو درپیش شدید معاشی دباؤ کے باعث ایران فوری معاہدہ چاہتا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے اتوار کو ’ایکسیوس‘ کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید مذاکرات کریں گے۔
عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ثالثوں نے تہران کو باضابطہ طور پر امریکی تجویز مسترد کیے جانے سے آگاہ نہیں کیا اور ایران اپنے آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعطل کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔