جی ہاں، بانڈز ایک بار پھر محفوظ ہیں
- بانڈز کی کشش افراط زر کی آئندہ سمت پر منحصر ہے، جبکہ بلند شرح سود طلب محدود کرسکتی ہے اور مستحکم افراط زر موجودہ ییلڈز کو مزید پرکشش بناسکتا ہے
شاید ڈالر ہمیں کچھ بتانے کی کوشش کررہا ہے۔
ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، حالانکہ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہے، ایران جنگ میں سفارتی پیش رفت کی امید بڑھی ہے اور عالمی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کا رجحان بھی بحال ہوگیا ہے۔ عام طور پر سستا تیل اور سازگار عالمی منڈیاں حتمی محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے ڈالر کی کشش کم کردیتی ہیں، لیکن گرین بیک مسلسل مضبوط ہورہا ہے۔ کیا سرمایہ کاروں نے آخرکار امریکی فیڈرل ریزرو پر یقین کرنا شروع کردیا ہے؟
گزشتہ ہفتے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ، جو فیڈرل ریزرو نے تین سال میں پہلی شرح سود میں اضافہ تھا، نے صورتحال پر بحث کا رخ بدل دیا۔ اب مارکیٹ اکتوبر میں مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے تقریباً برابر امکانات ظاہر کررہی ہے، جبکہ دسمبر تک مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کو مکمل طور پر قیمتوں میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد بھی مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع ہے۔ فیڈرل ریزرو حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ مسلسل بلند افراط زر پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔ نتیجتاً شرح سود کے فرق نے ڈالر کے حق میں مزید رخ اختیار کیا ہے، جس سے یورو اور پاؤنڈ جولائی کے اواخر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔
اب تک صورتحال واضح ہے، لیکن ڈالر کو مضبوط کرنے والی یہی تبدیلی ایک دلچسپ امکان کو جنم دے رہی ہے: چھ سال کی شدید مشکلات کے بعد بانڈز ایک بار پھر پرکشش دکھائی دینے لگے ہیں۔
یہ مشکلات معمولی نہیں رہیں۔ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے بعد جی 7 ممالک کے طویل مدتی سرکاری بانڈز کی قیمتیں تقریباً نصف رہ گئی ہیں، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کے سرمایہ کار ایک اور مشکل سال سے گزر رہے ہیں۔ بڑی معیشتوں میں 10 سے 30 سالہ سرکاری قرضوں کی شرح منافع کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن شرح منافع میں ہر نئی بلندی خریداری کرنے والے سرمایہ کار کے لیے ممکنہ منافع بھی بڑھاتی ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع تقریباً 5 فیصد ہونے اور ایس اینڈ پی 500 کی ارننگز ییلڈ اس سے معمولی زیادہ ہونے کے باعث سرکاری قرضے اب ان سرمایہ کاروں کے لیے متبادل بن رہے ہیں جو برسوں سے زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ لگانے پر مجبور تھے۔
کیا بانڈز کی طویل مندی کا دور آخرکار ختم ہونے کے قریب ہے؟
کچھ بڑے سرمایہ کار اب یہ سوال اٹھانے لگے ہیں۔ فنڈ مینیجرز اب بھی بانڈز میں معمول سے کم سرمایہ کاری کررہے ہیں، جس سے مارکیٹ کا رجحان بدلنے کی صورت میں سرمایہ کاری کی پوزیشن تبدیل کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ آر بی سی گلوبل ایسٹ مینجمنٹ کے فکسڈ انکم شعبے آر بی سی بلیو بے کا خیال ہے کہ 2026 میں بانڈز کی قیمتوں میں آنے والی شدید گراوٹ کا بدترین مرحلہ گزر چکا ہے اور ادارے نے طویل مدتی بانڈز کے حوالے سے زیادہ مثبت مؤقف اختیار کیا ہے۔ گولڈمین سیکس کو بھی توقع ہے کہ بنیادی افراط زر میں کمی کے باعث سخت مالیاتی پالیسی سے متعلق مارکیٹ کی بعض جارحانہ توقعات بالآخر کم ہوسکتی ہیں۔
ایک دہائی تک سرمایہ کاروں کو منافع کے لیے مارکیٹ کے نسبتاً پیچیدہ حصوں کا رخ کرنا پڑا، لیکن اب اعلیٰ معیار کے فکسڈ انکم اثاثے ایک بار پھر خاصا منافع دے رہے ہیں، وہ بھی زیادہ خطرہ مول لیے بغیر اور عموماً یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب مارکیٹیں خطرناک ہوجاتی ہیں۔
بانڈز کے حق میں دلیل کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آئندہ افراط زر کا رخ کیا رہتا ہے۔ فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھانا شروع کردی ہے، مزید اضافے کی توقعات مارکیٹ میں شامل ہوچکی ہیں، قیاس آرائی پر مبنی پوزیشنز ختم ہوگئی ہیں اور بلند شرح سود بالآخر طلب کو محدود کرنی چاہیے۔ اگر افراط زر کی توقعات مستحکم ہوجاتی ہیں تو موجودہ شرح منافع واقعی بہت پرکشش ثابت ہوسکتی ہے۔
لیکن کیا اس دلیل میں خاموشی سے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرنے والا جھٹکا بھی ختم ہورہا ہے؟
برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 99 ڈالر کے قریب آگئی ہے کیونکہ سات ماہ سے جاری ایران جنگ کے حوالے سے سفارتی کوششوں سے کوئی مثبت پیش رفت ہونے کی امید بڑھ رہی ہے۔ مگر جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں خام تیل اب بھی تقریباً 37 فیصد مہنگا ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بلند ہیں، آبنائے ہرمز اب بھی عالمی سپلائی کے منظرنامے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی بے ترتیبی صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہوئی کہ برینٹ چند ڈالر نیچے آیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں مارکیٹیں مالیاتی سختی کی قیمتوں میں شمولیت پر شاید اس جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعتماد کا اظہار کررہی ہیں، جس نے مالیاتی سختی کی ضرورت پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں اور آبنائے ہرمز میں صورتحال بتدریج معمول پر آجاتی ہے تو کیا ہوگا؟ خام تیل کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے، افراط زر کا دباؤ گھٹ جائے گا، مرکزی بینکوں کے پاس شرح سود مزید بڑھانے کی کم وجوہ ہوں گی اور طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا معاملہ خاصا مضبوط ہوجائے گا۔ ڈالر کو حاصل موجودہ شرح سود کا فائدہ بھی بالآخر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر قابلِ فہم سرمایہ کاری حکمت عملی ہے۔
لیکن اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرگئی تو؟
یہ سوال اب زیادہ اہم ہوگیا ہے کیونکہ ایک اور بڑے تیل بحران سے نمٹنے کے لیے دستیاب حفاظتی گنجائش جنگ کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں کم ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں افراط زر کی توقعات کو بڑھا سکتا ہے جب مرکزی بینک مارکیٹوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ قیمتوں کا دباؤ قابو میں آرہا ہے۔ کیا فیڈرل ریزرو کے مزید تین شرح سود میں اضافے بھی کافی ہوں گے؟ اگر تیل دوبارہ تیزی سے مہنگا ہونے لگے تو کیا 5 فیصد شرح منافع والے امریکی ٹریژری بانڈز اب بھی اتنے ہی پرکشش رہیں گے؟ اور کیا آج طویل مدتی بانڈز خریدنے والے سرمایہ کار بھی، جیسا کہ اس بانڈ مندی کے دوران بارہا ہوا، یہ دریافت کریں گے کہ بظاہر غیر معمولی بلند شرح منافع مزید بلند ہوسکتی ہے؟
کیون وارش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین فارورڈ گائیڈنس کو زیادہ پسند نہیں کرتے، انہوں نے اپنی ڈاٹ پلاٹ پیش گوئی جاری کرنے سے گریز کیا ہے اور غیر جانبدار شرح سود جیسے روایتی اشاریوں کی عملی افادیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا رجحان بظاہر اس بات کا جائزہ لینے کی طرف ہے کہ افراط زر کی سمت اور پائیداری کیا ہے، بجائے اس کے کہ ماڈلز یا انفرادی اعداد و شمار پالیسی کا میکانکی طور پر تعین کریں۔ چنانچہ بانڈز کی طویل مدتی مدت میں بڑی سرمایہ کاری پر غور کرنے والی مارکیٹوں کو نہ صرف افراط زر کی پیش گوئی کرنا ہوگی بلکہ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فیڈ کا نیا نظام اس کا ردعمل کس طرح دے گا۔
آخر کیا غلط ہوسکتا ہے؟
پاکستان اور اسی نوعیت کی فرنٹیئر معیشتوں کے لیے یہ معاملہ محض بانڈ مینیجرز کے درمیان نظری بحث نہیں۔ مضبوط ڈالر درآمدی توانائی اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع زیادہ خطرے والے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے اثاثوں کے مقابلے میں امریکی سرکاری قرضوں کو زیادہ پرکشش بناتی ہے۔ مزید یہ کہ تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں درآمدی بل، کرنسی اور مقامی افراط زر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جب مہنگا عالمی سرمایہ پہلے ہی پالیسی گنجائش محدود کررہا ہے۔
چنانچہ ایک مضبوط ڈالر، بلند امریکی شرح منافع اور توانائی کی ایک اور قیمتوں کا جھٹکا بیک وقت سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔ پاکستان کا ان تینوں عوامل پر اثر و رسوخ بہت کم، جبکہ ان سے متاثر ہونے کا امکان خاصا زیادہ ہے۔ ممکن ہے بانڈز میں تیزی کی توقع رکھنے والے سرمایہ کار درست ثابت ہوں۔ ممکن ہے 99 ڈالر کا تیل 90 ڈالر تک آجائے، سفارتی کوششیں کامیاب رہیں، افراط زر کم ہوجائے اور آج کی شرح منافع وہ موقع ثابت ہو جس کا سرمایہ کار چھ سال کی مسلسل مشکلات کے بعد انتظار کررہے تھے۔
لیکن جنگ اب بھی جاری ہے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور فیڈرل ریزرو کا نیا دور جان بوجھ کر خود کو زیادہ غیر یقینی بنا رہا ہے۔ تو کیا مارکیٹیں ایک بار پھر صبح ہونے کا جشن اس وقت منا رہی ہیں جب باہر ابھی اندھیرا ہے؟
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026