✕
کاروبار اور معیشت

بجلی چوری اور نقصانات، بین الوزارتی کمیٹی کا ڈسکوز کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ

  • آڈٹ میں بجلی چوری اور نقصانات کی بنیادی وجوہات کا جامع تشخیصی تجزیہ شامل ہونا چاہیے، احد چیمہ
شائع اپ ڈیٹ

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) میں نااہلی اور بجلی چوری کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی بین الوزارتی کمیٹی نے بدھ کو بجلی چوری کی روک تھام، ترسیلی نقصانات میں کمی اور ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا اور تمام ڈسکوز کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی چوری کی اصل شرح، وجوہات اور جغرافیائی ارتکاز کے ساتھ ساتھ تکنیکی و تجارتی نقصانات کا تعین کیا جاسکے۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ اور وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کی۔ کمیٹی نے مزید فیصلہ کیا کہ تکنیکی آڈٹ کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) آئندہ ہفتے تک حتمی شکل دے دیے جائیں گے۔

کمیٹی کو پاور ڈویژن، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے بجلی چوری، تقسیم کے نقصانات، وصولیوں اور توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو شفاف اور قابل اعتماد طریقہ کار کے ذریعے تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور تکنیکی آڈٹ میں سہولت کاری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس مقصد کے لیے موزوں اور اہل تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جلد اظہار دلچسپی جاری کیا جائے گا۔

سینیٹر احد چیمہ نے زور دیا کہ آڈٹ میں بجلی چوری اور نقصانات کی بنیادی وجوہات کا جامع تشخیصی تجزیہ شامل ہونا چاہیے اور اس کے نتائج قابل اعتماد اور قابل عمل ہونے چاہئیں۔

احد چیمہ نے کہا کہ حکومت بجلی چوری کم کرنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ کسی صورت بجلی چوری یا تقسیم کے نظام میں موجود نااہلیوں کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ اوور بلنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تکنیکی آڈٹ کے نتائج حکومت کو بجلی چوری اور تقسیم کے نقصانات میں کمی کے لیے ہدفی اور شواہد پر مبنی اقدامات کرنے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن کمیٹی کے مقاصد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور بجلی چوری اور نقصانات پر قابو پانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہا ہے، خصوصاً ان ڈسکوز میں جہاں بجلی چوری کی شرح بدستور زیادہ ہے۔

کمیٹی کو پیسکو اور کیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں مراعات پر مبنی سولرائزیشن کے پائلٹ منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جہاں بجلی چوری اور تقسیم کے نقصانات خاصے زیادہ ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کے نیٹ ورک پر دباؤ کم کرنے اور بجلی چوری اور لائن لاسز کے مستقل مسائل سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی کے حل فراہم کرنا ہے۔

کمیٹی نے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور تقسیم کے نیٹ ورک میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی، نگرانی بہتر بنانے اور احتساب مضبوط کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع اور قابل اعتماد ڈیٹا کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔

دونوں وزرا نے اوور بلنگ سے نمٹنے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ڈسکو کی جانب سے اضافی بلنگ کے ذریعے بجلی چوری، نقصانات یا آپریشنل نااہلیوں کو چھپانے کی کوئی بھی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ صارفین کو تقسیم کے نظام کی کمزوریوں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

کمیٹی نے ڈسکوز کی وصولیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور رواں سال کے دوران ریکارڈ ہونے والی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزرا نے زور دیا کہ بہتر گورننس، مضبوط نگرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات اور زیادہ نقصانات والے علاقوں میں ہدفی کارروائی کے ذریعے اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026