نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا غزہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد پر زور
- غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین سے متعلق او آئی سی کی کمیٹی آف سکس کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور غزہ تنازع ختم کرنے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد آگے بڑھانے کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں توثیق کی گئی ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم ڈار نے مسجد اقصیٰ، الحرم الشریف میں اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق پر مبنی اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور او آئی سی کی جانب سے مربوط اور مؤثر سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور طرز حکمرانی سے متعلق انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں اور فلسطینی اتھارٹی کو اس میں مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو جبکہ فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی بھی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔