ٹرمپ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے درمیان معاہدہ، آرکٹک تنازع ختم ہونے کا امکان
- گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کا نیم خودمختار علاقہ ہے جو آرکٹک اور شمالی امریکا کے درمیان واقع ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو گرین لینڈ اور ڈنمارک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جہاں ایک ایسے معاہدے پر دستخط متوقع ہیں جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوگا اور اس اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل معدنی وسائل سے مالا مال جزیرے پر جاری کشیدگی ختم ہوسکتی ہے۔
رائٹرز سے بات کرنے والے تین افراد کے مطابق معاہدہ امریکا کو گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی وسعت دینے کی اجازت دے گا۔ موجودہ پِٹوفِک اسپیس بیس کے علاوہ دو نئے فوجی مقامات قائم کئے جانے کی توقع ہے، جن میں نارسارسواک کا سابق سرد جنگ کا فضائی اڈہ اور میسٹرسوِگ شامل ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کا نیم خودمختار علاقہ ہے جو آرکٹک اور شمالی امریکا کے درمیان واقع ہے اور توانائی کے وسیع ذخائر رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اسے حاصل کرنے کے لیے فوجی یا معاشی طاقت استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہ کرنے پر جنوری میں نیٹو کے اندر سفارتی بحران پیدا ہوا تھا۔
ٹرمپ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن سے ملاقات کریں گے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے مطابق معاہدہ آرکٹک کی سلامتی کو صرف واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے بجائے نیٹو کی اجتماعی نگرانی میں لائے گا۔ تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات منگل کو دستخط سے قبل جاری نہیں کی گئیں۔
یہ معاہدہ گرین لینڈ پر مکمل قبضے کے ٹرمپ کے سابقہ عزائم سے ایک تبدیلی ہے، تاہم جزیرے میں امریکی فوجی انفرااسٹرکچر میں نمایاں توسیع کی نمائندگی کرتا ہے۔