ورلڈ بینک، آئی ایم ایف کی غریب ممالک کے لیے قرض کے فریم ورک میں تبدیلیوں کی حمایت
- ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے کم آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی پائیداری کے جائزوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اصلاحات کی منظوری دے دی، جن پر 2027 کے آخر تک عمل درآمد شروع ہوجائے گا
ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو کہا کہ دونوں اداروں کے ایگزیکٹو بورڈز نے کم آمدنی والے ممالک کے قرضوں کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فریم ورک میں مجوزہ اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور عالمی ماحول کی عکاسی کی جاسکے۔
2017 کے بعد پہلی بار ہونے والے مشترکہ جائزے میں کئی شعبوں میں تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ملکی قرضوں کا بہتر تجزیہ اور طویل مدتی ترقیاتی چیلنجز، بشمول موسمیاتی تبدیلی، کے تجزیے کو مزید وسیع کرنا شامل ہے۔
ورلڈ بینک نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد قرضوں کی پائیداری کو لاحق خطرات کے تجزیے کو بہتر بنانا ہے، جس کے لیے ممالک کی قرض برداشت کرنے کی صلاحیت کی پیمائش کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے گا اور قرضوں کی پائیداری کا جائزہ لینے کے لیے نئے ذرائع متعارف کرائے جائیں گے۔
آخر میں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پیش گوئیوں کی مطابقت اور درستگی یقینی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ’’حقیقت پسندی کے ذرائع‘‘ اور دباؤ کے ٹیسٹوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کریں گے، جبکہ ممالک کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ قرضوں سے متعلق اعداد و شمار میں شفافیت بہتر بنائیں، ورلڈ بینک نے کہا۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک قرضوں کی پائیداری کے فریم ورک کو کسی ملک کی اس صلاحیت کا تجزیہ اور جائزہ لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ موجودہ قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر مزید قرض لے سکتا ہے یا نہیں۔ تبدیلیوں کی سفارش اس لیے کی گئی ہے کہ بہت سے کم آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور مالی معاونت کے ذرائع میں تبدیلی آئی ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی شرائط پر ملکی اور بیرونی قرض گیری میں اضافہ ہوا ہے۔
ورلڈ بینک نے مزید کہا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک 2027 کی دوسری ششماہی میں قابلِ عمل ہونے کی توقع ہے۔
جولائی میں مکمل ہونے والے جائزے سے تصدیق ہوئی کہ قرضوں کی پائیداری کے فریم ورک نے قرضوں کے بحران کے واقعات کی پیشگی نشاندہی کرنے اور ممالک کو قرض لینے اور قرض دینے سے متعلق باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینے کے حوالے سے مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
تاہم، جائزے میں ایسے کئی شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی جہاں فریم ورک کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے تاکہ ترقیاتی ضروریات میں اضافے اور سرکاری ترقیاتی معاونت میں نمایاں کمی کے دوران پیدا ہونے والے نئے چیلنجز کو مدنظر رکھا جاسکے۔