✕
دنیا

امریکی پابندیاں روسی 'فوجی ڈیٹرنس' کا جواز ہیں، میدویدیف

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک بل پر دستخط کیے جس کے تحت یوکرین میں جنگ کے معاملے پر روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے
شائع اپ ڈیٹ

روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے ہفتے کو کہا ہے کہ نئی امریکی پابندیوں پر روس کا ردعمل ’’فوجی ڈیٹرنس‘‘ پر مبنی ہونا چاہیے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اہم اتحادی اور ماسکو کے نمایاں مغرب مخالف سخت گیر رہنماؤں میں شمار ہونے والے میدویدیف نے اپنے بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک بل پر دستخط کیے جس کے تحت یوکرین میں جنگ کے معاملے پر روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ کانگریس نے کئی ماہ کی تاخیر کے بعد اس بل کی منظوری دی تھی۔

مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے موسوم اس قانون کا ہدف روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے علاوہ پیوٹن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ہیں۔

روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے میدویدیف نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’سمندر پار بھی وہ صرف براہِ راست فوجی بازدارندگی کی زبان سمجھتے ہیں، اور گراہم جیسے مردہ دہشت گرد کے قانون جیسے روس مخالف مظالم کا جواب بھی ہمیں اسی زبان میں دینا چاہیے۔‘‘

ماسکو کی جانب سے 2022 میں یوکرین کے خلاف مکمل جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے پیوٹن سمیت روسی حکام یوکرین اور اس کے حامیوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے رہے ہیں، تاہم کیف ان الزامات کو بے بنیاد جنگی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔

میدویڈیف نے 2008 سے 2012 تک روس کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ایک ایسے انتظام کے تحت وہ سربراہِ مملکت رہے جس کے باعث اس وقت کے وزیراعظم پیوٹن صدارتی مدت کی آئینی حدود سے بچنے میں کامیاب رہے۔

61 سالہ میدویدیف سوشل میڈیا پر یوکرین اور مغرب کو باقاعدگی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی سخت بیانات پر مبنی یہ مہم سیاسی مطابقت برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جبکہ بعض دیگر کے مطابق یہ روسی قیادت کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

گزشتہ سال ٹرمپ نے دو جوہری آبدوزوں کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد میدویدیف نے ٹیلی گرام پر ماسکو کے نیم خودکار ’’ڈیڈ ہینڈ‘‘ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول نظام کا حوالہ دیا تھا۔