✕
دنیا

ایران جنگ جلد ختم ہونے کی امید ہے، ٹرمپ

  • ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ہم دیکھیں گے کہ یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، امریکی صدر
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ قریب ہے۔ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس میں تنازع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور فی الحال اس کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

ایکسیوس نے بدھ کی رات رپورٹ کیا کہ اگلے ہفتے نیویارک میں خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات میں جنگ کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق امریکی منصوبوں پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ٹرمپ نے بدھ کی شام قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ہم جنگ کے اختتام کے قریب ہیں۔

ایران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ہم دیکھیں گے کہ یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کو دہراتے ہوئے یہ بات کہی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے براہِ راست پیغام ملا ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ٹرمپ نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے حوالے سے مختلف اہداف اور ٹائم لائنز پیش کی ہیں۔

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہزاروں افراد مارے اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنا جنگ کے اپنے ایک مقصد کے طور پر بیان کیا ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکا جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔