مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیے۔
شرحِ سود میں کوئی بھی اضافہ حکومت (جو سب سے بڑا قرض لینے والا فریق ہے) کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیتا جس کے نتیجے میں شرحِ نمو پر منفی اثر پڑتا۔
اور شرحِ سود میں کمی کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا جس نے 20 مئی کو تیسرے سہ ماہی جائزہ مشن کے اختتام پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی مؤقف برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ ثانوی اثرات کی مسلسل قریبی نگرانی جاری رکھے گا۔
مشرق وسطیٰ کے جاری اور پھیلتے ہوئے تنازع کے ساتھ ساتھ روس-یوکرین تنازع کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کے تخمینے بڑھ رہے ہیں۔
تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر قیمتوں کا استحکام حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے جس کا تعین ایس بی پی او ایکٹ 1956 کی دفعہ 4 (بی) میں کیا گیا ہے جس میں جنوری 2022 تک ترامیم کی گئی تھیں۔ یہ ترمیم آئی ایم ایف کی ایک قسط کے اجرا کی شرط تھی جس کا مقصد مرکزی بینک اور اس کے اعلیٰ حکام کو حکومت کی انتظامیہ یعنی ایگزیکٹو برانچ کے کسی بھی اثر و رسوخ سے آزاد بنانا تھا۔
ایس بی پی کی ویب سائٹ پر وضاحت کی گئی ہے کہ قیمتوں کا استحکام کم اور مستحکم افراطِ زر کو برقرار رکھنے سے عبارت ہے جس کے لیے حکومت کے درمیانی مدت کے افراطِ زر کے ہدف کو رہنما اصول بنایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد گزشتہ ایک سال کے دوران جاری کیے گئے بیشتر مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں برقرار رہی ہے۔
لہٰذا یہ بات حیران کن نہیں کہ 14 ستمبر کے مانیٹری پالیسی بیان (ایم پی ایس) میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر مالی سال 2027 کے لیے افراطِ زر کا منظرنامہ گزشتہ جائزے کے مقابلے میں بڑی حد تک برقرار ہے اور توقع ہے کہ جون 2027 تک افراطِ زر بتدریج 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حد کی بالائی سطح کی جانب کم ہوگا تاہم اس منظرنامے کو لاحق خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں جن خطرات کی نشاندہی کی گئی ان میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل کی شدت، رسد میں تعطل اور ایل نینو کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
اس کے باوجود یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا مشن جو چوتھی سہ ماہی کے جائزے کے لیے اس ماہ کی 23 تاریخ کو آنے والا ہے (جس کی کامیابی سے اگلی قسط جاری ہوگی) پالیسی ریٹ میں اضافے پر زور دے سکتا ہے اگر جغرافیائی سیاسی صورتحال ایندھن کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کرتی رہی اور پاکستان جیسے ملک کے لیے جو اس وقت ایک سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے اور جیسا کہ ایم پی ایس میں ذکر کیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے درجے کے اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں مہنگائی زیادہ تیزی سے بڑھے گی۔
علاقائی ممالک میں افراطِ زر کی شرح پاکستان کے مقابلے میں کم ہے۔ اگست میں بھارت میں یہ شرح 4.82 فیصد، بنگلہ دیش میں 8.2 فیصد، سری لنکا میں 8 فیصد اور چین میں 0.8 فیصد رہی جو ان ممالک کی متعلقہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد ہوگیا یعنی 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 27 اپریل کو پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 10.5 فیصد سے بڑھایا گیا تھا کیونکہ افراطِ زر اپریل کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 11.7 فیصد ہوگیا تھا یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ آج افراطِ زر میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے 17 جولائی سے پٹرولیم قیمتوں میں ہر 24 گھنٹے بعد ردوبدل کا فیصلہ ہے جو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
اور آخر میں اگلا مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس 26 اکتوبر کو ہوگا، لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ افراطِ زر میں کمی آئے گی اور جغرافیائی سیاسی عوامل مزید اثرانداز نہیں ہوں گے جس سے ایم پی سی کو پالیسی ریٹ میں کمی کا موقع ملے گا، جو معاشی نمو کے فروغ کے لیے ایک اقدام ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026