وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم : ای سی سی نے 75 ارب روپے کی منظوری دے دی
- اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق ریلیف صرف غیر تجارتی صارفین کو ملے گا اور فی صارف یا مالک صرف ایک گاڑی تک محدود ہوگا
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کم آمدنی والے صارفین کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کے لیے 75 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ای سی سی اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ہدفی ریلیف کی تجویز منظور کرلی گئی۔
اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے ریلیف دیا جائے گا، جو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کے حساب سے 5 لیٹر پٹرول کے برابر ہے، جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کو ہر 10 دن کے لیے 1000 روپے ریلیف ملے گا۔ یہ سہولت ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔
ریلیف صرف غیر تجارتی صارفین کو دستیاب ہوگا اور ہر صارف یا مالک کو صرف ایک گاڑی کے لیے یہ سہولت دی جائے گی۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن فیول پاس سسٹم (ایف پی ایس) متعارف کرائے گی اور اس کا انتظام سنبھالے گی، تاکہ ریلیف کی ڈیجیٹل انتظام کاری اور شفاف تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔
ای سی سی نے وزیر نجکاری کی سربراہی میں قائم عملدرآمد کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی تنظیم نو کے لیے عملدرآمد فریم ورک کی بھی منظوری دی۔
کمیٹی نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے ڈرافٹ اپ گریڈ معاہدے کی بھی منظوری دی، جس میں اگست 2026 میں ترمیم کی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں اور متعلقہ مراعات پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے فریم ورک فراہم کیا جائے گا، جبکہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت پانچ سال ہوگی۔
ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مالیاتی دعووں کے تصفیے کے لیے عبوری طریقہ کار کی بھی منظوری دی، جس میں جولائی 2025 سے جون 2026 تک کے غیر ایڈجسٹ شدہ ان پٹ سیلز ٹیکس دعووں کے معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ یہ ادائیگی ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن کے ذریعے کی جائے گی۔
کمیٹی نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے متعلق معیارات اور ضوابط کی تجویز مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے گاڑیوں کی درآمد کے معائنہ نظام کا جائزہ لینے والی کمیٹی کی سفارشات حاصل کرنے کے بعد تجویز دوبارہ پیش کی جائے۔
ای سی سی نے ملکی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے ساتھ 2 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی بھی منظوری دی۔
علاوہ ازیں ای سی سی نے ستمبر 2027 میں اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل اجلاس کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے لیے 15 بلٹ پروف سیڈان گاڑیوں کی خریداری کی خاطر تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے 3 ارب روپے کی منظوری بھی دے دی۔