✕
دنیا

پاکستان کی سعودی عرب میں پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت

  • احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کر دی گئی، حملوں میں بعض افراد زخمی ہوئے
شائع اپ ڈیٹ

دفترِ خارجہ نے ہفتے کو عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ایک روز قبل دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے کہ عراق سے داغے گئے ڈرونز نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جس کے باعث اسے بند کرنا پڑا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کو توانائی کی وزارت کے ایک عہدیدار نے قبل ازیں بتایا کہ ’’احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کر دی گئی اور حملوں میں بعض افراد زخمی ہوئے۔‘‘

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’’عراقی وزیراعظم کی درخواست پر ریاض نے فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے اور عراقی حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کا مقصد عراق سے مملکت اور پڑوسی ممالک کے خلاف ہونے والے حملوں کی روک تھام ہے۔‘‘

تاہم وزارت نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب ’’اپنی خودمختاری، سلامتی، تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘

دریں اثنا، پاکستان نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں تیل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی، جن کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔

دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’پاکستان سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے قابلِ مذمت ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔‘‘

دفترِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بیان میں کہا گیا، ’’پاکستان مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور مملکت سعودی عرب کی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح ہونے والے ان حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ریاض نے اس پائپ لائن کے استعمال میں اضافہ کر دیا ہے، جو خلیج کے قریب واقع ابقیق کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کے متبادل راستے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔