پاکستان، قطر کا مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ، یورپ تک تجارتی راہداریوں پر غور
- وفاقی وزیر تجارت سے سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے ہم منصبوں کی الگ الگ ملاقاتیں
پاکستان اور قطر نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ذریعے وسیع تر علاقائی تجارتی روابط قائم کرنے پر تبادلہ خیال کیا جس کے تحت ممکنہ طور پر پاکستان کو ترکیہ اور یورپی منڈیوں سے منسلک کیا جا سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد ٹرانزٹ تجارت اور دوطرفہ تجارت کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
یہ پیش رفت بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور علاقائی ہم منصبوں کے درمیان ہونے والی دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی جن میں تجارت، رابطہ کاری، غذائی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جبکہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن (آئی او میڈ) کے سیکریٹری جنرل سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور ابھرتے اقتصادی و تکنیکی شعبوں میں مزید تعاون کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت امور احمد بن محمد السید سے ملاقات کے دوران دونوں جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور اس کے وسیع تر علاقائی و معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جام کمال نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے قطر کے عزم اور کوششوں کو سراہا۔ دوسری جانب قطری وزیر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی کوششوں کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔
علاقائی رابطہ کاری اور بیلٹ اینڈ روڈ اقدام (بی آر آئی) بھی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل رہے جبکہ دونوں جانب سے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ذریعے ٹرانزٹ اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
دونوں وزرا نے مشرقِ وسطیٰ کے راستے ترکیہ اور پھر یورپ تک پھیلے وسیع تر علاقائی تجارتی راستوں کے ذریعے پاکستان اور قطر کو باہم منسلک کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دوطرفہ تجارت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں جانب سے اقتصادی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور موجودہ تجارتی حجم میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے سری لنکا کے وزیر برائے تجارت، کامرس، غذائی تحفظ و ترقی وسانتا سماراسنگھے سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرا نے کاروباری اداروں اور عوام کے درمیان روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا اور رابطہ کاری و بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مزید قریبی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا۔
سری لنکن وزیر نے مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔
جام کمال نے اقتصادی ترقی میں ڈیجیٹلائزیشن کے بڑھتے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے امکانات تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی استعداد بھی بڑھانی چاہیے۔
دونوں جانب سے غذائی تحفظ، بالخصوص غریب اور ترقی پذیر ممالک پر اس کے اثرات، نیز مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جام کمال نے پاکستانی کینو کو بہتر مارکیٹ رسائی کے لیے دوبارہ درجہ بندی میں سری لنکا کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
سری لنکن وزیر نے بھی سری لنکا کے انناس، ایووکاڈو اور کنگ کوکونٹ کی پاکستان میں رسائی کے حوالے سے پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
دونوں جانب سے علاقائی رابطہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بنگلہ دیش کے وزیر برائے تجارت، صنعت، ٹیکسٹائل و جوٹ کھنڈاکر عبدالمکتادر سے الگ ملاقات میں بھی دوستانہ ماحول میں بات چیت ہوئی جس میں دونوں جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی تعاون اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
بنگلہ دیشی فریق نے علاقائی یکجہتی اور امن کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔
اپنے حالیہ دورۂ بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون، اقتصادی روابط اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
جام کمال نے بنگلہ دیش کو پاکستان کی چاول کی برآمدات کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کی ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت کو ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں تک وسعت دینے کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔
بنگلہ دیشی وزیر نے صنعتی ترقی کے لیے تجربات اور مہارتوں کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
وزرا نے اتفاق کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور مضبوط علاقائی رابطہ کاری خطے کے اقتصادی مستقبل کی تشکیل اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن (آئی او میڈ) کی سیکریٹری جنرل ٹریسا چان سے بھی ملاقات کی۔
ٹریسا چان نے جام کمال کو 2025 میں قائم ہونے والی تنظیم کے بارے میں بریفنگ دی اور پاکستان کے بطور معاہدہ کنندہ اور بانی رکن کردار کو سراہتے ہوئے تنظیم کے لیے پاکستان کی اہم خدمات کو اجاگر کیا۔
ملاقات میں حکومتوں اور نجی اداروں سے متعلق تنازعات کے حل میں ثالثی کے بڑھتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی او میڈ پرامن اور ادارہ جاتی بنیادوں پر تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔