تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ، مزید ٹینکر حملوں پر برینٹ اور امریکی خام تیل 100 ڈالر سے تجاوز کرگئے
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 5.39 ڈالر، یعنی 5.33 فیصد اضافے کے ساتھ 106.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا اور دونوں اہم عالمی بینچ مارک خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہازوں پر حملوں میں آنے والی سب سے بڑی شدت نے پہلے ہی محدود تیل رسد میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
امریکی وقت کے مطابق صبح 11:49 بجے (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 15:49 بجے) برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 5.39 ڈالر، یعنی 5.33 فیصد اضافے کے ساتھ 106.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے سودے 5.16 ڈالر، یعنی 5.37 فیصد اضافے کے ساتھ 101.21 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔
اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان حملے روکنے کے لیے مستقل معاہدہ طے پانے کی امیدیں پوری نہ ہوسکیں اور لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔
حوثیوں نے جمعرات کو یمن کی بندرگاہ المخا کا کنٹرول سنبھال لیا، جس سے بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کو مزید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران ٹینکروں پر حملوں میں شدت آنے کے باعث خلیجی بحری آمدورفت بھی آبنائے ہرمز کے راستے محدود ہے۔
ایکس ایس ڈاٹ کام کے شعبہ کاروباری ترقی کے سربراہ سائمن پیٹر ماسابنی نے کہا کہ یمن سے سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈی کے لیے خطرے کا ایک نیا ذریعہ پیدا کردیا ہے، جس سے خدشات ایران اور آبنائے ہرمز سے آگے بھی پھیل گئے ہیں۔ اب خطرہ کسی ایک اہم بحری گزرگاہ تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی برآمدی راستوں، تیل کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے میں خلل کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو ایران کی شدید متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے قبل امریکا نے ایران کے 5 تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں اس کا ردعمل مزید شدید ہوگا۔
ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ایک نئے تجزیے کے مطابق ’’ایران تنازع کے حتمی حل کے امکانات معدوم ہونے اور برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار حال ہی میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد، خام تیل کی عالمی منڈیاں اب ایک ایسے طویل مدتی نئے معمول کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں رسد میں خلل کا خطرہ عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کرچکا ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جاری تیزی کا تسلسل چین پر منحصر ہوگا، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔
آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ چین نے کئی ماہ تک کمزور طلب کے بعد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس سے حقیقی خام تیل کی منڈی کو سہارا ملا ہے۔
آئی این جی کے مطابق اگر چین میں خام تیل کی خریداری میں بحالی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے رسد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور قیمتیں بلند ہوسکتی ہیں، جبکہ درآمدات میں کمی سے مارکیٹ میں جاری تیزی کی رفتار محدود ہوسکتی ہے۔
کموڈیٹیز سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے آئی سی آئی ایس کے عالمی تیل مارکیٹ سربراہ ڈیوڈ جوربینازے نے کہا، ’’کئی ماہ تک قیمتوں میں کمی کی بنیادی دلیل چین کی کمزور طلب رہی ہے۔‘‘
اوپیک نے جمعرات کو 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کرکے 380,000 بیرل یومیہ کردی۔ اس کے ماہانہ رپورٹ کے مطابق یہ مسلسل پانچویں مرتبہ ہے کہ تنظیم نے طلب میں اضافے کے اپنے تخمینے میں کمی کی ہے۔
رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اگست میں اوپیک کی تیل پیداوار میں 640,000 بیرل یومیہ کمی ہوئی، کیونکہ ایران جنگ کے باعث سعودی عرب کی برآمدات کو نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل ترسیل بھی متاثر ہوئی۔