✕
کاروبار اور معیشت

ایف بی آر کا کسٹمز فیلڈ فارمیشنز کی حدود و اختیارات میں اہم ردوبدل

  • تازہ ترامیم 2024 میں متعارف کرائے گئے کسٹمز کے دائرہ اختیار کے فریم ورک کی مزید تنظیم نو کا حصہ ہیں
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں کسٹمز کے فیلڈ فارمیشنز کے دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں، جن کے تحت ڈیجیٹل اور انٹیلی جنس پر مبنی کلیئرنس کے بعد نگرانی کو مزید مؤثر بنانے اور مختلف کسٹمز فارمیشنز کے درمیان ذمہ داریاں ازسرنو تقسیم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

تازہ ترامیم 2024 میں متعارف کرائے گئے کسٹمز کے دائرہ اختیار کے فریم ورک کی مزید تنظیم نو کا حصہ ہیں۔ نئی تبدیلیوں میں انفورسمنٹ، ایکسپورٹ اسکیمز، گوداموں، کلیئرنگ ایجنٹس اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) سے متعلق ذمہ داریاں مختلف کسٹمز فارمیشنز میں تقسیم کی گئی ہیں۔

ایف بی آر کے نئے ایس آر او 1448(I)/2026 کے تحت کسٹمز کلیکٹریٹس اور ڈائریکٹوریٹس سے متعلق مختلف شقوں میں ترمیم کی گئی ہے، جس میں انٹیلی جنس پر مبنی مانیٹرنگ، وی بوک نگرانی، ایکسپورٹ سہولت اسکیمز اور کسٹمز اسٹیشنز و ای پی زیڈز کے دائرہ اختیار کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

ترمیم کے مطابق بندرگاہوں، آف ڈاک ٹرمینلز، زمینی کسٹمز اسٹیشنز، ڈرائی پورٹس اور ایئرپورٹس سے کلیئر ہونے والے درآمدی و برآمدی کارگو کی انٹیلی جنس یا وی بوک کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔ اس میں وہ کارگو بھی شامل ہوگا جسے وی بوک نظام میں ہولڈ کیا گیا ہو۔ تاہم یہ نگرانی متعلقہ کلیکٹریٹس کے معمول کے کلیئرنس آپریشنز میں مداخلت کے بغیر کی جائے گی۔

ایف بی آر نے متعدد ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز (ڈی ای ایس) اور موبائل انفورسمنٹ اسٹیشنز (ایم ای ایس) کو بھی ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ انڈس کے دائرہ اختیار میں شامل کردیا ہے۔ ان میں تھاکوٹ، تربیلا، صوابی، اٹک، خوشحال گڑھ، ڈی آئی خان-ہکلہ موٹروے، کالا باغ، جناح برج، چشمہ، تونسہ، غازی گھاٹ، ظاہر پیر، کشمور/گڈو، سکھر، لاڑکانہ-خیرپور، دادو-مورو، کوٹری اور حب روٹ کے مختلف مقامات شامل ہیں۔

سندھ میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم ، برآمدات پر ڈیوٹی و ٹیکس ریفنڈ، مینوفیکچرنگ بانڈز اور ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹس سے متعلق امور مخصوص علاقائی دائرہ اختیار میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ حیدرآباد ڈرائی پورٹ کو بھی متعلقہ دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا ہے۔

کراچی میں پبلک و پرائیویٹ گوداموں، ڈپلومیٹک بانڈڈ گوداموں اور ڈیوٹی فری شاپس سے متعلق امور کے ساتھ کلیئرنگ ایجنٹس کے لائسنسنگ معاملات بھی متعلقہ کسٹمز فارمیشنز کی ذمہ داریوں میں شامل کردیئے گئے ہیں۔

نئی ترتیب کے تحت تفتان کلیکٹریٹ ای پی زیڈ سیندک، صادق اور ریکوڈک سے متعلق درآمدی و برآمدی کلیئرنس کے امور دیکھے گا، جبکہ گوادر کلیکٹریٹ ای پی زیڈ ڈوڈار اور مستقبل میں قائم ہونے والے ای پی زیڈز کے معاملات سنبھالے گا۔

شمالی خیبر پختونخوا کے لیے ہزارہ، مالاکنڈ، مردان، نوشہرہ اور پشاور ڈویژنز میں برآمدات، درآمدات، ای پی زیڈز اور عارضی درآمدات کے کارگو کی کلیئرنس کا دائرہ اختیار مقرر کیا گیا ہے، تاہم بین الاقوامی ٹرانزٹ اس میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ پشاور ڈرائی پورٹ، طورخم اور دیگر متعدد کسٹمز اسٹیشنز سمیت ای پی زیڈ رسالپور کو بھی اس دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا ہے۔

جنوبی خیبر پختونخوا کے لیے کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان اور میران شاہ پر مشتمل الگ دائرہ اختیار مقرر کیا گیا ہے، جس میں ٹانک، ٹل، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور دیگر کسٹمز اسٹیشنز کے علاوہ ای پی زیڈ میران شاہ بھی شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026