اسلام آباد کا تنی ہوئی رسی پر سفر
- واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کی تازہ مہم کے خلاف پاکستان کا محتاط اور متوازن ردعمل قابل فہم ہے
واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کی تازہ مہم کے خلاف پاکستان کا محتاط اور متوازن ردعمل قابل فہم ہے۔ تاہم ملک کی جغرافیائی، معاشی اور سفارتی حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد اس خطرے کو محض انتظار اور صورت حال پر نظر رکھنے کا معاملہ نہیں سمجھ سکتا کہ ثانوی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں۔ اسے اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی، جبکہ ساتھ ہی اس تنازع کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھنا ہوگا جس نے ابتدا ہی میں یہ صورتحال پیدا کی ہے۔
امریکا نے جسے آپریشن اکنامک ڈی ڈے قرار دیا ہے، اس کا اعلان کیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک اور اداروں کو سخت ثانوی پابندیوں اور امریکی مالیاتی نظام سے اخراج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ اقدامات شپنگ، ایوی ایشن، ٹیکنالوجی، گولڈ اور ڈیجیٹل اثاثوں تک پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے آمدنی کے باقی ماندہ ذرائع کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے فی الحال محتاط مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد ایران کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور اپنے دوطرفہ معاہدوں کے مطابق تجارت کرے گا، جبکہ امید ظاہر کی ہے کہ معاشی معاملات بالآخر واشنگٹن اور تہران کے درمیان وسیع تر تصفیے کا حصہ بنیں گے۔ یہ ایک مناسب مؤقف ہے، جو دو اہم دوطرفہ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ اور ایک اہم معاشی، سفارتی اور جیوپولیٹیکل پارٹنر ہے، لیکن ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے، جس کے باعث تہران کے ساتھ قابل عمل اور دوستانہ تعلقات اقتصادی اور علاقائی دونوں حوالوں سے انتہائی اہم ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات سرکاری تجارتی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اگرچہ ایران کو رسمی برآمدات اب بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، تاہم غیر رسمی دوطرفہ تجارت کا تخمینہ سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر لگایا جاتا ہے، جس کا بڑا حصہ غیر رسمی ذرائع اور بارٹر انتظامات کے ذریعے ہوتا ہے۔
صرف چاول اور آم کی برآمدات ہی سرحدی معیشت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جون اور جولائی کے دوران تقریباً 1,209 ٹرک گبد بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے چاول لے کر گزرے، جبکہ تقریباً 1,121 ٹرک آم لے کر تفتان کے راستے گزرے۔ اس تجارت کو پہلے ہی سنگین خطرات کا سامنا ہے، جبکہ کوئٹہ تفتان روٹ پر سیکیورٹی کی صورتحال خاص طور پر غیر یقینی ہے۔
امریکا کی نئی پابندیاں غیر یقینی کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرسکتی ہیں، جس سے ممکنہ طور پر ان تاجروں اور برآمد کنندگان کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں جو سرحدی مارکیٹوں پر انحصار کرتے ہیں اور ایران کوریڈور کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔
جیسا کہ اس اخبار میں رپورٹ کیا گیا ہے، وزارت تجارت میں کسی ٹھوس کنٹیجنسی پلان کی عدم موجودگی خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ اسلام آباد اس وقت تک انتظار کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا جب تک پابندیاں نافذ نہ ہوجائیں اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرے کہ جائز پاکستانی تجارت کا تحفظ کیسے کیا جائے۔
وزارت تجارت کو فوری طور پر ان شعبوں، تاجروں، بارڈر کراسنگز اور سپلائی چینز کی نشاندہی کرنی چاہیے جو نئی پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں اور برآمد کنندگان اور کاروباری اداروں کے لیے عملی متبادل تیار کرنے چاہئیں۔ یہ اس لیے بھی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ پاکستان اور ایران نے حال ہی میں رسمی تجارت کو آسان بنانے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں ہونے والے پاک ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں فریقوں نے کسٹمز آپریشنز بہتر بنانے، بارڈر کراسنگ کی گنجائش بڑھانے، ٹی آئی آر اور ای۔ٹی آئی آر انتظامات کو آسان بنانے اور ریلوے اور ایئر کارگو کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تصادم کا ان کوششوں کو کولیٹرل ڈیمیج نہیں بننے دینا چاہیے۔
اسی وقت وزارت خارجہ کو واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو زیادہ فعال انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کو ضروری انسانی بنیادوں پر اور جائز تجارت کے لیے ایگزیمپشنز اور کاروٹس کے بارے میں وضاحت طلب کرنی چاہیے اور یہ مؤقف پیش کرنا چاہیے کہ بلاامتیاز ثانوی پابندیاں ایرانی عوام پر غیر متناسب قیمت عائد کریں گی۔
تاہم، یہاں ایک بڑا نکتہ بھی ہے۔ پاکستان کے مفادات واشنگٹن اور تہران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں نہیں ہیں۔ اس کے مفادات دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے میں ہیں۔ اس کے لیے محتاط سفارت کاری اور معاشی تیاری ضروری ہے۔
مثالی نتیجہ اب بھی یہی ہے کہ امریکا اور ایران ایک غیر ضروری جنگ کو طول دینے کے نقصانات کو تسلیم کریں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔ پاکستان کو دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس نتیجے کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی سفارتی گنجائش استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس وقت تک اسلام آباد کو ایسے تنازع کے نتائج سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا جس سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن جسے نظر انداز کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026