✕
پاکستان

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا، ایران تنازع کے خاتمے کا سب سے قابلِ عمل اور پائیدار راستہ ہے، وزیراعظم

  • مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ یا سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے سے خبردار کیا
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کا ’’سب سے قابلِ عمل اور پائیدار راستہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مفاہمت تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے مذاکرات اور سفارت کاری سے امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کی امن کے لیے جاری کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل تک پہنچ گئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا، ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کا سب سے قابلِ عمل اور پائیدار راستہ ہے اور تمام فریقوں کے لیے ایک ایسی وسیع پیمانے پر قابلِ قبول بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے مذاکرات اور سفارت کاری سے امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کے ایک اہم مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی دستخط کنندہ ہے، جس سے ان کے بقول اتحاد اور مشترکہ عزم کا واضح پیغام دے کر خطے میں امن کے امکانات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ معاہدہ پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں بھی مدد دے گا۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اقوام متحدہ 80 برس قبل جنگوں اور تنازعات کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے عالمی خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے منشور سے مکمل طور پر وابستہ اور اس کی پاسداری کرتا رہا ہے، جبکہ وہ اس عالمی ادارے کو ایک زیادہ منصفانہ، جمہوری اور عادلانہ بین الاقوامی نظام کی تشکیل میں معاونت کا ایک موقع سمجھتا ہے۔‘‘

تاہم انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کو مزید جواب دہ، مؤثر اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق زیادہ فعال بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان نے گزشتہ دو برس کے دوران عالمی امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا ہے اور کثیرالجہتی سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا ایس سی او میں اتحاد، امن اور رابطوں پر زور

اس سے قبل یہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون، رابطوں کے فروغ اور تنازعات کے پُرامن حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر تنظیم کو ’’تصادم کے بجائے تعاون‘‘ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اس تنظیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، جو اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔

انہوں نے ایس سی او کی صدارت کامیابی سے مکمل کرنے پر کرغزستان کو مبارک باد دی اور رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون کے فروغ کے لیے اس کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کرغزستان اور ازبکستان کی قیادت اور عوام کو بھی ان کے یومِ آزادی پر مبارک باد پیش کی۔

وزیراعظم نے کہا، ’’ایک ننھے پودے سے ایس سی او ایک تناور درخت بن چکی ہے، جو ہم سب کو سلامتی اور استحکام کا سایہ فراہم کر رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ عالمی منظرنامے کو اس وقت بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت میں تقسیم، سنگین ہوتے موسمیاتی بحران اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے مثال تبدیلی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے پیچیدہ ماحول میں ایس سی او اپنے رکن ممالک کے ان اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتی ہے کہ ان چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جائے اور اپنے عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ایس سی او کے منشور میں درج بنیادی اصولوں، بالخصوص بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں ایس سی او کے ایک رکن ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بڑے علاقائی بحران کے دوران پاکستان نے مسلسل امن کی وکالت کی۔

ان کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں توانائی کی ترسیل کے راستے متاثر ہوئے، جس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچا، جبکہ پاکستان اور عالمی برادری کو بھی بھاری معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ’’مخلص اور سنجیدہ ثالث اور سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کیا اور اس کی مسلسل سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پر منتج ہوئیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہمارے خطے میں پائیدار امن کے قیام کا سب سے قابلِ عمل اور دیرپا راستہ ہے۔‘‘

وزیراعظم نے پاکستان کی امن سازی کی کوششوں میں تعاون پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ ’’بنیادی طور پر دفاعی نوعیت‘‘ کا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’پاکستان نے ہمیشہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے،‘‘ تاہم انہوں نے زور دیا کہ کثیرالجہتی اداروں کو اس قابل بنایا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مقاصد اور امنگوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکیں۔

وزیراعظم کا عالمی برادری پر غزہ بحران کے حل پر زور

وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مسلسل مشکلات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی خاندان، بالخصوص مائیں اور بچے، بدستور شدید تکالیف، محرومی اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو حقِ خودارادیت کے بنیادی حق کے حصول میں مدد دینے کے اپنے عزم کو پورا کرے۔‘‘

پانی کو کبھی سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے: شہباز شریف

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطہ استحکام کے بغیر اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا۔

انہوں نے پانی کو خطے کی ’’شہ رگِ حیات‘‘ قرار دیتے ہوئے مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ ڈالنے یا سیاسی مفاد کے حصول کے لیے استعمال کرنے سے خبردار کیا۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں۔ انہیں من مانے طریقے سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاہدوں کی ’’حرف اور روح دونوں کے مطابق غیرمشروط‘‘ پاسداری کی جانی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے اور ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان نے علاقائی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ قربانیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں تھیں، بلکہ خطے اور اس سے باہر ایک زیادہ محفوظ اور پُرامن ماحول یقینی بنانے کے لیے تھیں۔‘‘

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہمسایہ ملک کے قیام کی خواہش کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا، ’’اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر شہریوں کا خون بہانے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، اس وقت تک پائیدار امن ہماری دسترس سے باہر رہے گا۔‘‘

رابطہ کاری اب ’’تزویراتی ضرورت‘‘ بن چکی ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ علاقائی رابطہ کاری ایس سی او کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اب یہ محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ’’تزویراتی ضرورت‘‘ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی بحران نے اجتماعی سلامتی کے لیے متنوع ذرائع نقل و حمل کے نیٹ ورک، محفوظ توانائی راہداریوں اور مضبوط ترسیلی نظام کی اہمیت واضح کر دی ہے۔

وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو علاقائی معیشتوں کو بحیرۂ عرب سے ملانے کا ایک دروازہ قرار دیتے ہوئے بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے ذریعے رابطوں کے منصوبوں اور علاقائی توانائی کے منصوبوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے 2035 تک ایس سی او ترقیاتی حکمتِ عملی پر عمل درآمد پر بھی زور دیا اور مجوزہ ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کو اس سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غربت میں کمی کے لیے ایس سی او کے خصوصی ورکنگ گروپ کی مستقل سربراہی کی حیثیت سے پاکستان خطے میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور جامع و پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

پاکستان نے ایس سی او کی صدارت کے لیے ترجیحات کا اعلان کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او کی صدارت کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی کی ترقی، غربت میں کمی، قدرتی آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیل سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

پاکستان نے ایس سی او کی سطح پر خودمختار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور گورننس فریم ورک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ اور جامع ترقی کو فروغ دینا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی رکن ملک اس دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صدارت درج ذیل نصب العین کے تحت آگے بڑھائی جائے گی:

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ مضبوط تر رابطہ کاری خطے کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لائے گی، جدت طرازی نئے مواقع پیدا کرے گی اور مشترکہ خوشحالی ایس سی او خطے کی مختلف برادریوں تک پہنچے گی۔

انہوں نے کہا، ’’تاریخ یہ گواہ رہے کہ ایس سی او نے تصادم کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے مکالمے، رکاوٹوں کے بجائے پلوں اور خوف کے بجائے امید کا انتخاب کیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’تاریخ یہ بھی گواہ رہے کہ ایس سی او نے بدلتی ہوئی دنیا کو محض دیکھا نہیں بلکہ مل کر اس کی تشکیل بھی کی۔‘‘

ایس سی او رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر دیے

خطاب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور اجلاس میں شریک دیگر رہنماؤں نے ایس سی او اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف بشکیک میں کونسل برائے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے مقام پر پہنچے، جہاں کرغزستان کے صدر صادِر ژاپاروف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا، جس کے بعد انہوں نے دیگر شریک رہنماؤں کے ہمراہ گروپ فوٹو بنوائی اور پھر اجلاس کی باضابطہ کارروائی کا آغاز ہوا۔

اجلاس کی صدارت صدر صدر ژاپاروف نے کی، جبکہ کرغزستان نے 2025-26 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی اپنی صدارت مکمل کر لی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اب 2026-27 کے لیے ایس سی او کی کونسل برائے سربراہانِ مملکت کی صدارت سنبھال لی ہے۔

اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ بشکیک کے دورے پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔