امریکا کیلئے شپنگ اخراجات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ
- کراچی سے نیویارک جانے والے ایک کنٹینر کی لاگت، جو پہلے تقریباً 2,000 ڈالر تھی، اب بڑھ کر 8,000 سے 9,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اسماعیل ستار
ایران جنگ کے اثرات کے باعث شپنگ روٹس میں خلل، جنگی خطرات کی انشورنس اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کے نتیجے میں امریکا جانے والی پاکستانی برآمدات کے شپنگ اخراجات بعض روٹس پر 200 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے بتایا کہ کراچی سے نیویارک جانے والے ایک کنٹینر کی لاگت، جو پہلے تقریباً 2,000 ڈالر تھی، اب بڑھ کر 8,000 سے 9,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اضافی لاگت امریکی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی حیثیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
اسماعیل ستار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور برآمد کنندگان پر بڑھتے ہوئے فریٹ چارجز کے اثرات کم کرنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی وضع کرے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں شپنگ نرخ بڑھے ہیں، تاہم پاکستان سے بعض روٹس پر اضافہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ برآمد کنندگان کو اضافی اخراجات کا بڑا حصہ خود برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شپنگ میں خلل نے کراچی سے جبل علی کے روٹ کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں فریٹ چارجز پہلے 100 سے 200 ڈالر تھے، جو اب بڑھ کر تقریباً 4,000 سے 5,000 ڈالر ہوگئے ہیں۔ اس دوران بحری جہازوں کی دستیابی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جس سے طلب اور رسد میں عدم توازن پیدا ہوا اور کرایوں میں مزید اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق مسابقتی برآمدی ممالک کے مقابلے میں لاگت کا فرق خاصا نمایاں ہے۔ ویتنام سے نیویارک جانے والے ایک کنٹینر کی موجودہ لاگت تقریباً 3,000 سے 4,000 ڈالر ہے، جبکہ پاکستان سے اسی شپمنٹ کی لاگت 8,000 سے 9,000 ڈالر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 5,000 ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے بین الاقوامی آرڈرز حاصل کرنے میں انہیں واضح نقصان کا سامنا ہے۔
اسماعیل ستار نے پاکستان میں مؤثر قومی شپنگ کیریئر اور مناسب کنٹینرائزڈ کارگو فلیٹ کی کمی کو بھی ایک ساختی کمزوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور کوریا جیسے ممالک کے قومی شپنگ کیریئرز عالمی سطح پر پیدا ہونے والے خلل کے دوران ان کی تجارت کو سہارا دیتے ہیں۔
انہوں نے فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے کا جائزہ لینے اور برآمد کنندگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے برآمد کنندگان، شپنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں پر مشتمل فوری بین الوزارتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بروقت مداخلت نہ کی گئی تو برآمدی آرڈرز میں کمی، زرمبادلہ کی آمدنی پر مزید دباؤ اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ردعمل پر مبنی طرز عمل کے بجائے فعال پالیسی سازی اختیار کرنی چاہیے اور عالمی شپنگ روٹس، فریٹ ریٹس اور سپلائی چینز میں ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026