✕
رائے

دیہی معیشت کو خود اپنی حکومت سے بچانے کی ضرورت

  • زرعی بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان کو منڈیوں میں حکومتی مداخلت کم، ٹیکنالوجی کا فروغ اور کسانوں کے لیے مؤثر خطرات سے بچاؤ کے نظام یقینی بنانا ہوں گے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی معیشت گزشتہ دو برس کے دوران پائیدار ترقی کی رفتار حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ زرعی آمدنی میں کمی اور اس کے نتیجے میں دیہی طلب میں پیدا ہونے والی کمزوری ہے۔ مالی سال 2026ء میں بڑی صنعتوں کی معمولی بحالی بھی زیادہ تر شہری کھپت اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کی بدولت ہوئی، جبکہ دیہی پاکستان کا اس میں کردار نسبتاً محدود رہا۔

اب ابتدائی طور پر ایسے آثار نظر آرہے ہیں کہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے، جس سے کاشت کاری کی معاشی افادیت بہتر اور دیہی علاقوں میں نقد رقم کی دستیابی بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم اس سے پہلے کی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کی غیر واضح زرعی پالیسیوں نے 2023ء سے 2025ء کے دوران اجناس کی قیمتوں میں کمی کے باعث ہونے والے نقصان کو مزید بڑھایا اور کسانوں کی آمدنی پر دباؤ طویل کردیا۔

اس معاملے میں حکومتی پالیسی کا تضاد واضح رہا ہے۔ ایک طرف حکومت نے گندم کے امدادی نرخ کا نظام ختم کرکے اور بڑے پیمانے پر سرکاری خریداری سے پیچھے ہٹ کر زرعی اصلاحات کی کوشش کی، جبکہ دوسری جانب جب غذائی مہنگائی سیاسی طور پر ناقابلِ قبول ہونے لگی تو حکومت نے مداخلت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے عالمی قیمتیں کم ہونے پر گندم درآمد کی اور بعدازاں ملکی قیمتیں دبانے کے لیے سرکاری ذخائر مارکیٹ میں جاری کیے۔

یہ طرزِ عمل نہ تو مؤثر امدادی نرخ کا نظام تھا اور نہ ہی حقیقی آزاد منڈی کی پالیسی۔ درحقیقت یہ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش تھی لیکن اس کے نتیجے میں پیداوار کنندگان کو حکومتی مداخلت کے نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

2019ء سے 2022ء کے عرصے کے برعکس صورتحال کا جائزہ اس حوالے سے اہم ہے۔ اس دوران ملکی امدادی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ کووڈ اور روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی زرعی اجناس کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، جس سے کسانوں کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کسانوں نے گاڑیوں، گھروں، کپڑوں، زرعی مشینری اور دیگر اشیائے صرف پر زیادہ خرچ کیا۔ اس کے فوائد دیہی سپلائی چینز تک بھی پہنچے اور مجموعی طلب کی ان بہتر صورتحال میں کردار ادا کیا، جن کے نتیجے میں مسلسل دو برس کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 5 سے 6 فیصد رہی۔

2022ء کے سیلاب نے اس رفتار کو متاثر کیا، جس کے بعد عالمی اجناس کی قیمتیں بھی گرنا شروع ہوگئیں اور متعدد ملکی پالیسی غلطیوں نے نقصانات میں مزید اضافہ کردیا۔ مقامی قیمتوں کو مارکیٹ کے ذریعے متوازن ہونے دینے کے بجائے حکام نے سستی زرعی اجناس کو مہنگائی پر قابو پانے کے ایک اور ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔

گندم اس کی واضح مثال ہے۔ نگران حکومت نے مالی سال 2023-24 کے دوران بڑی مقدار میں گندم درآمد کرنے کی اجازت دی اور سیاسی منتقلی کے دوران بھی درآمدی گندم کی ترسیل جاری رہی۔ 2024ء کی فصل آنے تک پاکستان میں گندم کے وافر ذخائر موجود تھے، عین اس وقت جب مقامی کسان اپنی فصل مارکیٹ میں لارہے تھے، جبکہ پنجاب نے پہلے سے اعلان کردہ امدادی قیمت پر گندم کی سرکاری خریداری سے بھی پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔

اس کے اثرات صرف ایک فصل تک محدود نہیں رہے۔ 2025ء تک گندم کی قیمتیں اپنی سابقہ بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر نیچے آچکی تھیں، جبکہ کئی زرعی وسائل کی لاگت بدستور بلند رہی، جس کے باعث کسانوں کو زیادہ تر نقصان خود برداشت کرنا پڑا۔ ذخیرہ کرنے کی سہولت رکھنے والے تاجروں نے کم قیمت پر گندم ذخیرہ کرلی، جبکہ حکومت پرانے سرکاری خریداری نظام کے تحت حاصل کیے گئے گندم کے بڑے ذخائر اپنے پاس رکھے بیٹھی رہی۔

2022ء کے سیلاب ایک بیرونی صدمہ تھے، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی بیشتر صورتحال ایسی نہیں تھی۔ حکومت زرعی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کی بحالی کے لیے مطلوبہ تیزی سے اقدامات نہ کرسکی، جبکہ افغان سرحد کے ذریعے تجارت پر پابندیوں نے زرعی برآمدات کے ایک اہم راستے کو محدود کردیا اور ملکی قیمتوں اور کسانوں کی آمدنی پر مزید دباؤ بڑھا دیا۔

مزید بنیادی طور پر بار بار آنے والی موسمیاتی آفات نے یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان نے زراعت کو جدید بنانے اور کسانوں کو خطرات سے نمٹنے کے مؤثر ذرائع فراہم کرنے میں بہت کم پیش رفت کی ہے۔ فصلوں کی انشورنس کا دائرہ محدود، ٹیکنالوجی کا استعمال غیر مساوی، پانی کا انتظام غیر مؤثر اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کمزور ہے۔ شدید موسمی حالات کو حکومت نہیں روک سکتی، لیکن کسانوں کو قابلِ اعتماد انشورنس، موسمیاتی موافقت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے والی اصلاحات کے بغیر بار بار خطرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا پالیسی کی ناکامی ہے۔

نتیجتاً یہ صورتحال محض بدقسمتی کا سلسلہ نہیں تھی۔ عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ناقص ملکی پالیسی، سیلاب کے بعد بحالی کے کمزور اقدامات، منڈیوں تک محدود رسائی اور زراعت کو جدید بنانے کی مربوط حکمتِ عملی کے فقدان نے مسائل کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے بعد حکومت کی مداخلت نے بھی ان ناکامیوں میں اضافہ کیا، کیونکہ غذائی اشیا کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے کسانوں کو کم قیمتیں دینے کی پالیسی اختیار کی گئی، جس کا بڑا بوجھ بالآخر پیداوار کنندگان کو برداشت کرنا پڑا۔

اب یہ صورتحال بتدریج تبدیل ہورہی ہے، جس میں ریاست کی مدد کا کردار زیادہ نمایاں نہیں۔ 2026ء میں زرعی اجناس کی قیمتیں بحال ہورہی ہیں، جبکہ ملکی گندم کی قیمتوں میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ سرکاری ذخائر میں کمی اور قیمتوں کے تعین میں نجی تجارت کے کردار میں اضافہ ہے۔ کم قیمت پر گندم ذخیرہ کرنے والے تاجروں نے پہلے فائدہ اٹھایا، تاہم مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے سے اب کسانوں کے لیے بھی پیداوار زیادہ منافع بخش ہوتی جارہی ہے۔

کسانوں کی آمدنی کے معاملے کا دوسرا پہلو بھی نسبتاً بہتر ہورہا ہے۔ زرعی ضروریات کی لاگت میں اضافہ پیداوار کی قیمتوں کے مقابلے میں بہت کم رہا ہے، ملک میں یوریا کی فراہمی بھی نسبتاً بہتر ہے، جبکہ ڈی اے پی کی قیمتوں میں بھی فصلوں کی قیمتوں کے مطابق اضافہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب تیزی سے ہونے والی سولرائزیشن نے بہت سے کسانوں کے لیے آبپاشی میں ڈیزل اور بجلی کے اخراجات پر انحصار کم کردیا ہے، جس سے ان کے منافع میں مزید بہتری آئی ہے۔

یہ بہتری صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ پاکستان میں کسان اضافی آمدنی ملنے پر خرچ کرنے والے اہم صارفین میں شمار ہوتے ہیں اور جب فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہوتی ہے تو موٹر سائیکلوں، گھریلو آلات، کپڑوں، تعمیراتی سامان اور پیک شدہ اشیائے صرف کی خریداری بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس زرعی آمدنی بہتر ہونے سے اس کے اثرات تیزی سے چھوٹے شہروں تک اور وہاں سے انہیں اشیا و خدمات فراہم کرنے والے صنعتی اور خدماتی کاروباروں تک پہنچتے ہیں۔

اس منتقلی کے ابتدائی آثار پہلے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ گندم کاشت کرنے والے کسان گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں، جبکہ چاول اور کپاس کی بہتر قیمتیں آئندہ سیزن میں دیہی معیشت کو مزید سہارا دے سکتی ہیں۔ موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں اور اشیائے صرف تیار کرنے والے اداروں نے بھی دیہی طلب میں بہتری کے آثار ظاہر کیے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسانوں کی بہتر مالی حالت کے اثرات اب وسیع تر معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی ساز ایک بار پھر اس بحالی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ چینی کی برآمد اور درآمد کے معاملے کے بعد حکومت پہلے ہی دباؤ میں ہے، جبکہ گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے غذائی مہنگائی سے متعلق خدشات دوبارہ پیدا کردیے ہیں۔ معمول کا ردعمل یہ ہوسکتا ہے کہ صارفین کو تحفظ دینے کے نام پر سرکاری ذخائر بڑی مقدار میں مارکیٹ میں جاری کیے جائیں، درآمدات کی اجازت دی جائے یا کسی اور طریقے سے ملکی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

یہ اقدام گزشتہ دو برس کی اسی غلطی کو دہرانے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کو غذائی قیمتوں میں اچانک اضافے سے صارفین کو تحفظ دینے کے لیے مؤثر نظام ضرور درکار ہے لیکن کسانوں کو ان کی پیداوار کی قیمت کم دینے کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنا انتہائی ناقص طریقہ ہے۔

اگر کم آمدنی والے گھرانوں کو مدد درکار ہے تو انہیں براہِ راست اور اہداف کی بنیادوں پر معاونت فراہم کی جانی چاہیے، نہ کہ پیداوار کنندگان کو کم قیمت دے کر بالواسطہ سبسڈی دی جائے۔ اگر ملک کو غذائی اجناس کے اسٹریٹجک ذخائر درکار ہیں تو ان کی خریداری اور اجرا بھی سیاسی دباؤ کے تحت صوابدیدی فیصلوں کے بجائے شفاف قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔

اور اگر زراعت کو واقعی آزاد منڈی کے اصولوں پر استوار کیا جارہا ہے تو تجارتی پالیسی اتنی قابلِ پیش گوئی ہونی چاہیے کہ کسان، تاجر اور نجی سرمایہ کار بار بار اسلام آباد کی پالیسی تبدیل ہونے کا خدشہ کیے بغیر پیداوار اور ذخیرہ کاری سے متعلق فیصلے کرسکیں۔ جب حکومت سرکاری خریداری سے پیچھے ہٹ جائے، درآمدات میں مداخلت کرے، برآمدات محدود کرے، ضرورت کے مطابق ذخائر جاری کرے اور اس کے باوجود نجی شعبے سے توقع رکھے کہ وہ قوانین کو مستحکم سمجھ کر کام کرے تو ایسی صورت میں مارکیٹ مؤثر طریقے سے کام نہیں کرسکتی۔

زراعت پاکستان میں روزگار اور دیہی قوتِ خرید کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران زرعی آمدنی میں کمی نے ملکی طلب کو دبائے رکھا، تاہم فصلوں کی قیمتوں میں حالیہ بہتری وسیع تر معاشی بحالی کا موقع فراہم کررہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بہتری کو ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی زرعی منڈی کے قیام کے لیے استعمال کرے، نہ کہ شہری مہنگائی سیاسی طور پر ناقابلِ قبول ہونے پر ایک بار پھر کسانوں کو قربان کرے۔

دیہی معیشت کو ایک اور موسمیاتی بحران کا سامنا ہوتے ہی دوبارہ کساد بازاری کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس لیے موجودہ بحالی نازک ہے، لیکن پالیسی کا راستہ واضح ہے: پاکستان کو صرف زرعی اجناس کی بلند قیمتیں نہیں بلکہ ایسی ریاست درکار ہے جو زرعی منڈیوں کو غیر مستحکم کرنا بند کرے اور جدید دیہی معیشت کے لیے ضروری ادارے، ٹیکنالوجی اور خطرات سے نمٹنے کے مؤثر نظام قائم کرے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026