اڑان پاکستان ایجنڈا، 60.259 ارب روپے کے 5 منصوبوں کی منظوری دیدی گئی
- یہ منصوبے حکومت کے اڑان پاکستان ترقیاتی و اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت اتوار کو سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہوا، جس میں مجموعی طور پر 60.259 ارب روپے مالیت کے 5 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں 11.714 ارب روپے مالیت کے 3 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ 48.545 ارب روپے کے 2 بڑے منصوبے مزید غور اور منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیے گئے۔
یہ منصوبے حکومت کے اڑان پاکستان ترقیاتی و اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد انسانی وسائل کو مضبوط بنانا، بنیادی ڈھانچے اور گورننس کو جدید بنانا اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی نے گلگت میں میڈیکل اینڈ نرسنگ کالج کے قیام کے نظرثانی شدہ منصوبے کی 4.924 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دی۔ احسن اقبال نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں طبی اور نرسنگ تعلیم کے مواقع بڑھانے پر زور دیا تاکہ مقامی سطح پر تربیت یافتہ طبی افرادی قوت تیار کی جاسکے۔ انہوں نے منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، جو 2017 میں شروع ہوا تھا تاہم فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔
اجلاس نے ڈیفنس کمپلیکس اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے ایف سی ایس کیمپس کے قیام کی بھی 2.753 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دی۔ وزیر منصوبہ بندی نے قومی ترقی کے اہداف، بالخصوص 2035 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے حصول سے متعلق تحقیق کے لیے پلاننگ کمیشن اور یونیورسٹی کے درمیان تعاون اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی ہدایت کی۔
اسی طرح ضلع اورکزئی میں زیڑہ سے ڈبوڑی تک 53.4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی 4.037 ارب روپے لاگت سے منظوری دی گئی۔ احسن اقبال نے موسم سرما شروع ہونے سے قبل منصوبے کے لیے باقی فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ یہ منصوبہ 2016 سے زیر التوا تھا۔
کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے نظرثانی شدہ 19.545 ارب روپے کے منصوبے کو مزید غور کے لیے ایکنک بھجوا دیا گیا۔ منصوبے کی بیرونی فنڈنگ جبکہ مقامی حصہ سندھ حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس نے میرانی ڈیم سے گوادر ٹاؤن تک پانی کی فراہمی کے منصوبے کو بھی ایکنک ارسال کیا، جس کی لاگت 29 ارب روپے ہے۔ منصوبے کا مقصد گوادر کو پائیدار پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ احسن اقبال نے گوادر میں سیوریج کے پانی کی صفائی کے لیے مطالعاتی منصوبہ شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹریٹمنٹ کے بغیر گندا پانی سمندر کو آلودہ نہیں کرنا چاہیے۔