پی ٹی اے کا ہر پری پیڈ ری چارج پر 180 دن کی میعاد مقرر کرنے کا حکم
- فیصلے کا مقصد لاکھوں پری پیڈ صارفین کے غیر استعمال شدہ بیلنس کو مستقل طور پر ختم ہونے سے بچانا ہے
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ ہر ری چارج یا بیلنس پر پری پیڈ صارفین کو کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کی جائے، جبکہ میعاد ختم ہونے والا بیلنس اگلے ری چارج پر خودکار طور پر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔
یہ فیصلہ لاکھوں پری پیڈ صارفین کو ان کے غیر استعمال شدہ بیلنس کے مستقل طور پر ختم ہونے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد سیلولر موبائل صارفین پری پیڈ ہیں۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ غیر استعمال شدہ بیلنس ضبط ہونے سے بالخصوص کم آمدنی والے صارفین متاثر ہوتے ہیں اور انہیں براہِ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
فیصلے کے تحت تمام سیلولر موبائل آپریٹرز کے لیے لازم ہوگا کہ کسی بھی رقم کے ری چارج یا بیلنس پر کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کریں۔
پی ٹی اے نے مزید ہدایت کی ہے کہ سم کے فعال رہنے کے دوران جس بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے، صارف کی جانب سے بعد میں دوبارہ ری چارج کرنے پر وہ بیلنس خودکار طور پر بحال اور قابلِ استعمال کردیا جائے۔
آپریٹرز کو فیصلے پر عمل درآمد کے دوران غیر منصفانہ تجارتی طریقے اختیار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں میعاد ختم ہونے کے بعد غیر استعمال شدہ پری پیڈ بیلنس ضبط کیے جانے کی شکایات شامل تھیں۔
اس سے قبل پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز، صارفین اور عام شہریوں سے دو تجاویز پر رائے طلب کی تھی۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہے، جبکہ دوسری میں غیر استعمال شدہ بیلنس کو صارف کے شناختی کارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاکہ نئی سم پر اسے بحال یا رقم واپس کی جاسکے۔
عوام کی اکثریت نے پری پیڈ بیلنس کو سم کے فعال رہنے تک مستقل طور پر برقرار رکھنے کی حمایت کی اور اسے صارفین کی محنت کی کمائی قرار دیا۔ ایک بڑی تعداد نے بیلنس کوسی این آئی سی کی سطح پر محفوظ رکھنے اور بعد میں بحالی یا رقم کی واپسی کی بھی حمایت کی۔
تاہم بیشتر سیلولر آپریٹرز نے سی این آئی سی پر مبنی نظام کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تکنیکی پیچیدگیاں، فراڈ کے خطرات، ملکیت کے تنازعات، نظام میں بڑی تبدیلیاں اور اضافی انتظامی و قانونی اخراجات پیدا ہوں گے۔
جاز نے پہلی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے پی ٹی اے کو بتایا کہ اس نے پہلے ہی ایسا نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب ٹیلی نار نے غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی، تاہم بتایا کہ بعد کے ری چارج پر میعاد ختم ہونے والا بیلنس خودکار طور پر بحال کردیا جاتا ہے۔
پی ٹی ایم ایل اور سی ایم پاک نے بھی غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے مستقل مالی ذمہ داریاں پیدا ہوسکتی ہیں، غیر فعال سمز کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور مالی رپورٹنگ و نمبرز کے انتظام میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز نے اس کے باوجود صارفین کو پری پیڈ بیلنس کے مستقل نقصان سے تحفظ دینے کی اہمیت تسلیم کی ہے۔
بین الاقوامی مثالوں سے بھی پی ٹی اے کے اقدام کو تقویت ملی۔ فیصلے میں برطانیہ میں ووڈافون کے طریقہ کار کا حوالہ دیا گیا، جہاں سم کے فعال رہنے تک پری پیڈ بیلنس برقرار رہتا ہے اور سم بند ہونے کے 60 دن کے اندر صارفین غیر استعمال شدہ بیلنس یا بنڈلز کی رقم واپس لینے کی درخواست کرسکتے ہیں۔
پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ بیلنس کی میعاد سے متعلق یہ نظام آپریٹرز کی تجارتی پائیداری متاثر کیے بغیر صارفین کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا کہ ری چارج پر کم از کم میعاد اور میعاد ختم ہونے والے بیلنس کی بحالی ضروری ہے اور یہ طریقہ کار ملکی و بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ ہے۔