صوبائی حکومتوں کے بجٹ نتائج
- اگر مزید صوبائی حکومتیں قائم کی جاتی ہیں تو سرکاری امور چلانے کے لیے جاری اخراجات اور مستقبل میں پنشن کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا خطرہ ہے
پاکستان کی چاروں صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر مجموعی سرکاری اخراجات میں ایک نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں مجموعی سرکاری اخراجات 23,087 ارب روپے رہے، جن میں صوبائی حکومتوں کے مجموعی اخراجات 8,627 ارب روپے تھے۔ تاہم اگر وفاقی حکومت کی جانب سے 6,947 ارب روپے کی قرضوں کی ادائیگی کو نکال دیا جائے تو ملک بھر میں خدمات کی فراہمی کے اخراجات میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بڑھ کر 53.4 فیصد ہوجاتا ہے۔
لہٰذا یہ بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ صوبائی حکومتوں کی بجٹ کارکردگی بنیادی خدمات کی فراہمی اور ان کے معیار کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، جن میں تعلیم، صحت، آبپاشی، سڑکوں کا نیٹ ورک، فراہمی آب اور صفائی ستھرائی شامل ہیں۔
مالی سال 2025-26 بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس سال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کو مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے نسبتاً بلند 5.4 فیصد سے کم کرکے جی ڈی پی کے ریکارڈ کم 2.6 فیصد کی سطح پر لایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ بجٹ خسارے میں اس نمایاں کمی میں صوبائی حکومتوں کا حصہ کتنا رہا؟
ابتدائی طور پر چاروں صوبائی حکومتوں کی مجموعی بجٹ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے بعد ہر صوبائی حکومت کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
چاروں صوبائی حکومتوں نے مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں نسبتاً اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اپنے ٹیکس محصولات میں 23.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جو وفاقی ٹیکس وصولیوں میں صرف 10 فیصد اضافے کے مقابلے میں خاصا بہتر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی ٹیکسوں کا جی ڈی پی سے تناسب بالآخر تقریباً ایک فیصد تک پہنچ گیا، جو مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے تقریباً 0.8 فیصد کے قریب تھا۔
مگر صوبائی ٹیکس نظام اب بھی آمدنی کے ایک ہی ذریعے، یعنی خدمات پر سیلز ٹیکس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں صوبائی ٹیکس آمدنی میں خدمات پر سیلز ٹیکس کا حصہ 64 فیصد سے زائد رہا۔ دیگر ممکنہ طور پر ترقی پسند اور زیادہ محصولات فراہم کرنے والے ٹیکس، جیسے زرعی آمدنی ٹیکس، جائیداد پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس اب بھی انتہائی کم ترقی یافتہ ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026-27 میں صوبائی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد تک پہنچ جانی چاہیے۔ اس سے بنیادی خدمات کے دائرہ کار میں توسیع اور ان کے معیار میں بہتری ممکن ہوگی۔
اخراجات کے پہلو پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی اخراجات میں ترقیاتی اخراجات کا حصہ 27.5 فیصد سے بڑھ کر 31 فیصد سے زائد ہوگیا ہے۔ جاری اخراجات میں اضافے کی شرح کو بھی 7 فیصد سے کم رکھنے میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں تقریباً 23 فیصد اضافہ ہوا۔
صوبائی آمدنی میں نسبتاً تیز رفتار اضافے اور جاری اخراجات میں اضافے کو محدود رکھنے کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی نقد سرپلس میں 57 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025-26 میں یہ جی ڈی پی کے 1.3 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا۔ اس سے مجموعی بجٹ خسارے میں کمی لانے میں نمایاں مدد ملی۔ تاہم بہتری کا بڑا حصہ وفاقی بجٹ خسارے میں نمایاں کمی کی وجہ سے آیا۔
اب ہم ہر صوبائی حکومت کی مالیاتی کارکردگی کے نمایاں پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔
صوبائی حکومتوں کی آمدنی میں نان ٹیکس ریونیو کا حصہ مالی سال 2025-26 میں 471 ارب روپے پر بدستور کم رہا مگر اچھی خبر یہ ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں نان ٹیکس آمدنی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا۔ آبپاشی کے پانی کے نرخوں اور شاہراہوں کے ٹولز سے اضافی آمدنی کے اب بھی نمایاں امکانات موجود ہیں۔
مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں صوبائی حکومتوں کا وفاقی این ایف سی منتقلی، گرانٹس اور قرضوں پر انحصار کچھ کم ہوا ہے۔ صوبائی آمدنی میں وفاقی منتقلی کا حصہ 86 فیصد سے کم ہو کر 84 فیصد سے بھی نیچے آگیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔
پنجاب حکومت کی کارکردگی کی نمایاں خصوصیت نقد سرپلس میں نمایاں اضافہ ہے، جو مالی سال 2024-25 میں 348 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 914 ارب روپے ہوگیا، یعنی 162 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ یہ کامیابی بنیادی طور پر جاری اخراجات میں اضافے کو 8 فیصد تک محدود رکھنے اور اپنی آمدنی میں 35 فیصد اضافے کے باعث حاصل ہوئی۔ مجموعی طور پر صوبائی نقد سرپلس کا 63 فیصد پنجاب حکومت نے پیدا کیا۔
سندھ حکومت کی اپنی آمدنی میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ درحقیقت اس وقت صوبائی ٹیکسوں سے سب سے زیادہ آمدنی سندھ کو حاصل ہو رہی ہے، جو 593 ارب روپے ہے جبکہ پنجاب حکومت کے صوبائی ٹیکس محصولات 496 ارب روپے رہے۔
جاری اخراجات میں اضافے کو صرف 6 فیصد تک محدود رکھا گیا اور وسائل کو ترقیاتی اخراجات کی جانب منتقل کیا گیا، جن میں مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 28 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر سندھ حکومت کے نقد سرپلس میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔
خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی نسبتاً محدود رہی۔ صوبائی ٹیکس محصولات میں ایک فیصد کمی ہوئی۔ وفاقی گرانٹس اور قرضوں میں اس سے بھی زیادہ، یعنی 11 فیصد کمی ہوئی، جبکہ این ایف سی منتقلی میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ واضح نہیں کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی سے ملنے والی رقم میں اضافے کی شرح اتنی کم کیوں رہی، جبکہ مجموعی طور پر این ایف سی منتقلی میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے جاری اخراجات میں اضافے کو صرف 2 فیصد تک محدود رکھا گیا جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 35 فیصد کا نمایاں اضافہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر نقد سرپلس میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔
بلوچستان حکومت کے بجٹ کے عمل میں بھی یہی مسئلہ نظر آتا ہے، جہاں وفاقی گرانٹس اور قرضوں میں 32 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی جبکہ این ایف سی منتقلی میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا۔ اپنی آمدنی اور جاری و ترقیاتی اخراجات دونوں میں معتدل اضافہ ہوا۔ نتیجتاً نقد سرپلس میں 82 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی۔
مالی سال 2025-26 کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب اور سندھ کی دو بڑی صوبائی حکومتوں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی دو چھوٹی صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی کارکردگی کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔
اب ہم مزید صوبائی حکومتوں کے قیام کی زیرِ بحث تجویز کے مالی اثرات کی طرف آتے ہیں۔ پہلا اہم نکتہ یہ ہے کہ ان حکومتوں کی فراہم کردہ خدمات کی نوعیت محنت پر مبنی ہونے کے باعث ملازمین سے متعلق اخراجات پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں یہ اخراجات 2,312 ارب روپے رہے جبکہ وفاقی حکومت کے ملازمین سے متعلق اخراجات 1,033 ارب روپے تھے۔ اس پہلو کو ماضی میں شاذ و نادر ہی اجاگر کیا گیا ہے۔
مزید برآں چاروں صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد کی مجموعی ادائیگیاں 1,141 ارب روپے ہیں۔ یہ رقم وفاقی حکومت کی جانب سے پنشن کی مد میں کیے جانے والے 1,001 ارب روپے کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔
چنانچہ اگر مزید صوبائی حکومتیں قائم کی جاتی ہیں تو حکومتی امور چلانے کے لیے جاری اخراجات اور مستقبل میں پنشن کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا خطرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں قومی ترقیاتی اخراجات میں کمی اور مجموعی بجٹ خسارے میں دوبارہ اضافے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026