درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی، سالانہ 38 ملین کی بچت کا امکان
- پاور ڈویژن کی درآمدی کوئلے کی خریداری سے متعلق نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنزجاری
پاور ڈویژن نے بجلی گھروں کی جانب سے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق نئی گائیڈ لائنز کے تحت خریداری سے پہلے مرحلے میں سالانہ 380 ملین روپے کی بچت ہوگی۔
منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ انکشاف وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر صدارت کوئلے کی خریداری سے متعلق متعدد اجلاس میں ہوا جہاں حکام نے رپورٹس یا بیرونی تحقیقات پر انحصار کرنے کے بجائے کوئلے کی خریداری کا اصل ڈیٹا، کنٹریکٹس اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کا جائزہ لیا۔
پاور ڈویژن کے مطابق پاکستان میں درآمدی کوئلے پر مکمل یا جزوی طور پر انحصار کرنے والے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کا ایک بڑا فلیٹ موجود ہے جس کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5,280 میگاواٹ ہے۔
ان میں پورٹ قاسم، حب پاور اور ساہیوال میں قائم تین بڑے 1,320 میگاواٹ کے بجلی گھر شامل ہیں جبکہ لکی اور جامشورو کے بجلی گھر بھی درآمدی کوئلہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان بجلی گھروں کو فعال رکھنے کے لیے انہیں بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ کوئلے کی فراہمی کے معاہدے کرنا پڑتے ہیں۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ درآمدی کوئلے کی قیمت عموماً بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بینچ مارک، جیسے API-4 انڈیکس سے منسلک ہوتی ہے جو عالمی منڈیوں میں ہونے والی کوئلے کی تجارت کی قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اس کے مطابق بجلی گھر کو بالآخر ادا کی جانے والی قیمت کا انحصار صرف اس بینچ مارک پر نہیں ہوتا بلکہ سپلائر کے ساتھ طے کی جانے والی رعایت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاور ڈویژن کے تجزیے میں ایک نمایاں فرق کی نشاندہی ہوئی۔
مختلف بجلی گھر ایک ہی سپلائرز سے کوئلہ خرید رہے تھے اور ایک ہی بین الاقوامی قیمت کے بینچ مارک کو استعمال کر رہے تھے، تاہم انہیں ملنے والی رعایتوں میں نمایاں فرق تھا جو 0.25 ڈالر سے 7.12 ڈالر فی میٹرک ٹن تک تھیں۔
جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک ہی سپلائر نے مختلف بجلی گھروں کو نمایاں طور پر مختلف رعایتیں پیش کیں۔ پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ بعض معاملات میں متبادل سپلائی کے انتظامات کے لیے مرکزی سپلائی معاہدوں کے مقابلے میں کم رعایت پر مذاکرات کیے گئے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جہاں ایک سپلائر سے کوئلہ وصول کیا جارہا تھا جو کم رعایت دے رہا تھا حالانکہ زیادہ رعایت دینے والا دوسرا سپلائر بدستور معاہدے کے تحت موجود تھا۔
پاور ڈویژن کے مطابق یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ ایندھن کی لاگت بالآخر ٹیرف کے ذریعے بجلی صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ ڈویژن نے کہا کہ ایندھن کی خریداری کی لاگت میں کسی بھی قابلِ گریز اضافے سے پاکستان بھر کے گھرانوں اور کاروباری اداروں پر براہِ راست اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
فوری اقدام کے طور پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باضابطہ طور پر پالیسی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں جن کے تحت کوئلے کی خریداری میں زیادہ شفافیت، یکسانیت اور مسابقت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اصلاحات کے پہلے مرحلے میں پاور ڈویژن کوئلے کی خریداری میں ’بہترین دستیاب رعایت کا ایک سادہ مگر اہم اصول متعارف کرارہا ہے جس کے تحت بجلی گھروں کو اپنے معاہدہ شدہ سپلائرز میں سے اسی سپلائر سے کوئلہ خریدنا ہوگا جو قابلِ اطلاق بین الاقوامی بینچ مارک کے مقابلے میں سب سے زیادہ رعایت پیش کرے۔ انہیں کم رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پاور ڈویژن نے کہا کہ اس اصلاحات کی بنیاد پر سالانہ تقریباً 38 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔ یہ بچت کسی اضافی سرمایہ کاری کے بغیر صرف اس بات کو یقینی بنا کر حاصل کی جائے گی کہ بجلی گھر کوئلہ بہترین دستیاب رعایت پر خریدیں۔
وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ یہ معاملہ تجارتی امور میں مداخلت کا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانے کا ہے کہ جہاں ایندھن کی لاگت بالآخر صارفین پر منتقل ہوتی ہے وہاں خریداری کا عمل مؤثر اور شفاف طریقے سے انجام دیا جائے۔