ٹرمپ انتظامیہ کا ایچ ون بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کا اقدام
- ٹرمپ انتظامیہ کی 10 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر فیس مستقل عائد کرنے کی کوشش، قانونی حیثیت اور ممکنہ اثرات پر عدالتوں اور کاروباری حلقوں کا اعتراض
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو ایک مجوزہ ضابطہ جاری کیا ہے، جس کے تحت اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیرملکی کارکنوں کے نئے ایچ ون بی ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد کی غیر معمولی فیس مستقل طور پر عائد کی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ فیس گزشتہ سال پہلی بار عائد کی تھی، تاہم عدالتوں نے اس پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال عارضی صدارتی حکم کے ذریعے عائد کی گئی فیس سے ان ویزوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جن پر ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق کے شعبے بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
جون میں ایک وفاقی جج نے قرار دیا تھا کہ یہ فیس غیرقانونی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو اس کی وصولی سے روک دیا تھا۔ بوسٹن میں قائم ایک اپیل عدالت اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ ایک دوسری عدالت اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ آیا واشنگٹن ڈی سی کے ایک جج نے ایک بڑے کاروباری گروپ کی جانب سے فیس کو چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کرکے درست فیصلہ کیا تھا۔
ٹرمپ کا 2025 کا وہ صدارتی حکم، جس کے ذریعے یہ فیس عائد کی گئی تھی، ستمبر میں اپنی ایک سالہ مدت پوری ہونے پر ختم ہوجائے گا، تاہم اس میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ فیس کو مستقل کرنے کے لیے ضوابط وضع کیے جائیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے تجویز کردہ 103,265 ڈالر فیس کا ضابطہ پیر کو فیڈرل رجسٹر میں آن لائن جاری کیا گیا اور منگل کو باضابطہ طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عوامی رائے لینے کا 30 روزہ عمل شروع ہوگیا ہے۔ ضابطے کو رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
ایچ ون بی پروگرام کے تحت امریکی آجر خصوصی شعبوں میں تربیت یافتہ غیرملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت سالانہ 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ ڈگری رکھنے والے کارکنوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ یہ ویزے تین سے چھ سال کی مدت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کے نتیجے میں بعض ایچ ون بی ویزوں کے حصول کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیا، جبکہ اس سے قبل مختلف عوامل کے لحاظ سے ان ویزوں کی فیس عموماً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک ہوتی تھی۔
ویزا پروگرام پر بحث
ریپبلکن صدر ٹرمپ اور ایچ ون بی پروگرام کے دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد کمپنیاں اس پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیرملکی افرادی قوت کو بھرتی کرتی ہیں۔ تاہم کاروباری تنظیموں اور متعدد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بعض ملازمتوں کے لیے اہل امریکی کارکنوں کی کمی پوری کرنے اور امریکی کاروباری اداروں کو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے یہ ویزا پروگرام ضروری ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق فروری کے اواخر تک تقریباً 70 آجر مجموعی طور پر 85 ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرچکے تھے۔
فیس عائد کرتے ہوئے ٹرمپ نے وفاقی امیگریشن قانون کے تحت صدر کو حاصل اس اختیار کا حوالہ دیا، جس کے تحت ایسے بعض غیرملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی جاسکتی ہے جن کی آمد کو امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے۔ اس فیس کو امریکا کے سب سے بڑے کاروباری لابنگ گروپ یو ایس چیمبر آف کامرس، ڈیموکریٹس کی زیرقیادت ریاستوں اور یونینوں و آجروں کے ایک اتحاد نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ان مقدمات میں رواں ہفتے تجویز کیے گئے ضابطے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اسے بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
قانونی چیلنجز میں اضافہ
مقدمات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا صدارتی اختیار ٹرمپ کو اس قانون کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا جس کے تحت ایچ ون بی ویزا پروگرام قائم کیا گیا تھا۔ مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں اور گروپوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کانگریس کی اجازت کے بغیر امریکا کے لیے محصولات حاصل کرنے کی غرض سے فیس، ٹیکس یا کوئی اور ذریعہ نافذ نہیں کرسکتا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ فیس روایتی ٹیکس نہیں اور عدالتوں کے پاس ملک میں غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے صدر کے اختیار پر سوال اٹھانے کا محدود اختیار ہے۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پابندیوں کے دوران گزشتہ سال آجروں نے تقریباً 3 لاکھ 44 ہزار ایچ ون بی ویزوں کے لیے رجسٹریشن کرائی، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد سے زیادہ کم اور 2023 میں طلب کیے گئے 7 لاکھ 94 ہزار ویزوں کے نصف سے بھی کم ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی ویزا درخواست دہندگان کی سخت جانچ پڑتال کا حکم بھی دیا ہے اور ویزا درخواستوں کے انتخاب کے لیے ایک نیا طریقہ کار تجویز کیا ہے، جس میں زیادہ مہارت رکھنے والے اور بہتر معاوضہ پانے والے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔
اگست کے اوائل میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایک الگ ضابطے کے تحت ایچ ون بی کارکنوں کے قیام میں توسیع یا دوسرے ممالک میں تعینات ملازمین کو امریکا منتقل کرنے کی درخواستوں پر 4,500 ڈالر تک اضافی فیس بھی عائد کردی تھی۔