✕
اداریہ

کرنٹ اکاؤنٹ: دباؤ بڑھنے لگا

شائع اپ ڈیٹ

کرنٹ اکاؤنٹ (سی اے) پر بتدریج دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں پٹرولیم قیمتیں مسلسل بلند رہنے کے باعث درآمدات پر اضافی دباؤ پڑرہا ہے۔

برآمدات مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھ رہیں جبکہ تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ رواں سال ترسیلاتِ زر کی نمو میں کمی کا امکان ہے جو پاکستانی روپے کے استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روپے کی متوازن قدر تقریباً 300 روپے فی ڈالر کے قریب ہوسکتی ہے۔

جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ ماہ اور گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں بہتر صورتحال ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایل ایس ایم کی شرح نمو میں کمی کے باوجود جس کا اندازہ جون کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ہوتا ہے، درآمدات 6 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئی ہیں۔ اشیا کی برآمدات درآمدات کی تقریباً نصف سطح پر رہیں جس کے نتیجے میں اشیا کا تجارتی خسارہ 3.1 ارب ڈالر ہوگیا جو سالانہ بنیاد پر 17 فیصد زیادہ ہے۔

سروسز بیلنس میں مسلسل بہتری آرہی ہے جس کی بڑی وجہ سروسز کی برآمدات، خصوصاً انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور دیگر کاروباری خدمات کی بہتر کارکردگی ہے۔ اس بہتری کی ایک وجہ ٹیکس میں حاصل ہونے والا فائدہ بھی ہے کیونکہ مقامی رسمی شعبے سے بیرونِ ملک خدمات فراہم کرنے کی صورت میں کارکنوں کو 30 فیصد سے زائد کا مالی فرق حاصل ہوتا ہے۔ جولائی میں بھی سروسز برآمدات نے اپنی مضبوط رفتار برقرار رکھی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات 18 فیصد اضافے سے 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اشیا و خدمات کا مجموعی خسارہ 27 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر ہوگیا جب کہ پرائمری بیلنس کو شامل کرنے کے بعد مجموعی خسارہ 4.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ترسیلاتِ زر کے لیے اس خسارے کو مسلسل پورا کرنا مشکل ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر کا مجموعی حجم 3.6 ارب ڈالر رہا جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ ہوا۔

ترسیلاتِ زر کا نصف سے زائد حصہ خلیجی خطے سے آرہا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث بے چینی بڑھ رہی ہے اور معاشی سست روی کے خدشات بھی حقیقی ہیں۔ اس کے علاوہ یہی بڑھتے خطرات تیل کی قیمتوں اور درآمدی بل کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مہنگائی میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے جو آئندہ دو ماہ کے دوران دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر ان پیش رفتوں نے جنگ سے قبل بننے والی معاشی ترقی کی رفتار کو سست کردیا ہے۔

چیلنج ایک بار پھر معاشی استحکام برقرار رکھنے کا ہے۔ مالی کارکردگی اچھی ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بنیادی توجہ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے امتزاج کے ذریعے تجارتی توازن کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔

اب تک اسٹیٹ بینک طلب کو محدود کرنے کے لیے ایک ہی پالیسی ٹول استعمال کرتا رہا ہے یعنی حقیقی شرح سود کو 2 سے 3 فیصد یا اس سے زائد مثبت سطح پر برقرار رکھنا۔ اس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ آمدنی پیدا کرنے کی غرض سے مالی شعبے پر محصولات بڑھانے کا دباؤ برقرار رہا ہے۔ ایک بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ پاکستانی روپے کو معمولی حد تک قدر میں کمی کی اجازت دی جائے، جس سے نہ صرف درآمدی طلب میں کمی آئے گی بلکہ برآمدات پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ اس اقدام سے حقیقی شرح سود کو نسبتاً کم مثبت سطح پر رکھنے کی گنجائش بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

اس مؤقف کو ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) کی صورتحال سے مزید تقویت ملتی ہے۔ ریئر اب تشویشناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ جولائی میں یہ 107.92 رہا جو مئی 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جولائی 2025 میں ریئر 100.0 کی سطح پر تھا۔ اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور توقع ہے کہ مہنگائی کی بلند شرح کے باعث اگست اور ستمبر میں بھی اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کو روپے کو ایسے خطرناک راستے پر نہیں جانے دینا چاہیے جہاں بالآخر کرنسی کی قدر میں اچانک اور شدید کمی ناگزیر ہوجائے کیونکہ ملکی معیشت ماضی میں کئی مرتبہ ایسی صورتحال کا سامنا کرچکی ہے۔

تاہم ایس بی پی اس کے جواب میں انٹر بینک مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر ڈالرز کی خریداری اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کی جانب اشارہ کرسکتا ہے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ درست ہیں لیکن دانشمندانہ طرزِ عمل یہ ہوگا کہ صورتحال کے اشاروں کو بروقت سمجھتے ہوئے بتدریج اقدامات کیے جائیں، اس سے پہلے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پینک بٹن دبانے کی نوبت آئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026