✕
پاکستان

شدید خراب موسم کے باعث کوہ پیما ڈاکٹر اسماء کی میت کی واپسی کی کوششیں روک دی گئیں، عطاء تارڑ

  • وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جو کچھ ممکن ہوا، وہ کیا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے اتوار کو کہا ہے کہ قراقرم کے اسپانٹک پہاڑ سے ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت واپس لانے کے لیے بھیجی گئی ریسکیو ٹیم شدید خراب موسم کے باعث واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیم کیمپ تھری کے قریب پہنچ چکی تھی، تاہم شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث اسے کیمپ ٹو واپس آنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ بلند پہاڑی پورٹرز سے توقع تھی کہ وہ کیمپ تھری پہنچ کر ڈاکٹر اسماء کی میت کو بیس کیمپ تک لے آئیں گے، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث میت کی واپسی کی کارروائی متاثر ہوئی ہے۔

عطاء تارڑ نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی منظوری دے دی گئی ہے اور گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ ناردرن ایریاز (ایف سی این اے) کے درمیان رابطہ قائم کرلیا گیا ہے، جبکہ متبادل انتظامات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’موجودہ حالات میں جو کچھ ممکن ہوا، وہ کیا جائے گا۔‘‘

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستانی کوہ پیما اسماء قراقرم کے سلسلے میں 7,027 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سے واپسی کے دوران جان کی بازی ہار گئیں۔

اے سی پی کے مطابق اسماء نے صحت مند حالت میں اسپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کرلی تھی،تاہم واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں بلندی کے باعث ایک سنگین طبی ہنگامی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا اور پہاڑی رہنماؤں کی فوری کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکیں۔