ایران کی جانب سے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت
- چھ ماہ کی جنگ کے بعد ایران پر نئی امریکی پابندیوں کا خطرہ، آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر
ایران نے ہفتے کے روز امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جن سے اسلامی جمہوریہ کی پہلے ہی مشکلات سے دوچار معیشت پر مزید دباؤ پڑنے اور اس کے اہم تجارتی شراکت داروں، بالخصوص چین، پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے تقریباً چھ ماہ بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر حملے تو نہیں کر رہے، تاہم امن مذاکرات کی جانب پیش رفت کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہے، جبکہ تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے غیر مجاز آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب ایران کی معیشت پہلے ہی امریکی پابندیوں کے شدید دباؤ میں ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور پیر کو دوپہر 2 بجے مشرقی امریکی وقت کے مطابق ایک پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔
بیسنٹ نے چین پر بھی واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے پر زور دیا ہے، جو تجزیاتی ادارے کلیپر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زائد تیل کا خریدار ہے۔ تاہم بیجنگ نے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کو کہا کہ امریکا کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کا متوقع اعلان ’’اقوام متحدہ کے ہر آزاد رکن ملک پر ماورائے علاقائی خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش‘‘ ہے۔
انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں۔‘‘
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعے کو دھمکی دی کہ ایران دشمن کی دھمکیوں کا فوجی جواب دے گا اور ’’کچل دینے والے، سزا دینے والے اور تباہ کن ردعمل‘‘ سے کام لے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی ایسے ملک کے خلاف معاشی اقدامات کی دھمکی دی ہے جو ایران کو ’’کسی بھی قسم کا سہارا‘‘ فراہم کرے۔ انہوں نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن تنازع میں ’’دیکھ رہا ہے کہ کیا ہوتا ہے‘‘۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا، ’’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میری رائے میں وہ درست معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘
آبنائے ہرمز میں آمدورفت معطل
امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کی بندرگاہوں میں مؤثر ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز میں بھی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے اور سیکڑوں جہازوں پر ہزاروں بحری کارکن پھنسے ہوئے ہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف چار مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں کوئی بڑا خام تیل بردار جہاز یا مائع قدرتی گیس کا ٹینکر شامل نہیں تھا۔
تاہم ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آراین اے(ارنا) نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ تہران نے بغداد کی بار بار درخواستوں کے بعد متعدد عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ارنا کے مطابق عراقی ٹینکرز کے لیے خصوصی اجازت کا حصول پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے دورۂ عراق کے دوران بغداد کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 80 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل میں مدد کی۔ جنگ سے قبل یہ مقدار روزانہ 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تھی، جو دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے تقریباً ہر پانچ بیرل میں سے ایک کے برابر ہے۔
امریکی حملوں نے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کی بحریہ و فضائیہ کو بھی تباہ کن نقصان سے دوچار کیا، تاہم تہران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز کی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آئل ٹینکرز کی آمدورفت میں خلل ڈالنے اور خطے میں اپنے حریفوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبداللہی نے ہفتے کو زیرِ زمین بیلسٹک میزائل بنانے والے ایک پلانٹ کے دورے کے دوران ایران کی میزائل صلاحیت اجاگر کرنے کی کوشش کی، جس کی رپورٹ سرکاری ٹیلی وژن نے نشر کی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ پلانٹ ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر انداز میں ایسی صلاحیتیں اور سازوسامان تیار کرنے کے قابل ہے جو معیار، مقدار اور صلاحیت، تینوں اعتبار سے زیادہ بہتر ہیں۔‘‘
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے کہا کہ تہران کو پڑوسی ممالک کی جانب سے نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات اور اقتصادی تعاون کے قیام سے متعلق ’’متعدد پیغامات‘‘ موصول ہوئے ہیں۔
قالیباف نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن ممالک کا حوالہ دے رہے تھے۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اسرائیل کی خاطر خطے میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ان کے بقول ایک آزاد اور ’’مقامی سطح پر تشکیل پانے والا‘‘ علاقائی نظام امن و سلامتی یقینی بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ جنگ کے آغاز میں طے کیے گئے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور ایرانیوں کے لیے اپنے مذہبی حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے حالات پیدا کرنا شامل تھا۔ 2025 سے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے اس کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال بھی واضح نہیں۔
اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایرانی ہیں۔ جنگ کے پہلے ہی روز ایران میں 168 اسکول کے بچے بھی مارے گئے۔ امریکا کے مطابق اس کے 750 سے زائد فوجی زخمی اور 18 ہلاک ہوئے ہیں۔
اگرچہ ایران بدستور اپنے مؤقف پر قائم ہے، تاہم صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر بھی زور دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے (اسنا) کے مطابق انہوں نے جمعے کو کہا، ’’بہتر ہوگا کہ آج ہی جنگ ختم کردی جائے، جب ہم طاقت اور وقار کے ساتھ کھڑے ہیں، پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کر رہی ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ امریکا نے تمام ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے اور دنیا میں اس سے نفرت کی جاتی ہے۔‘‘