منظرنامہ بدلنے کی ضرورت
- اب وقت آگیا ہے کہ جدید طریقے اپنائے جائیں اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ سنگاپور اور کولمبیا سے ملنے والے اسباق ہمیں جرائم کے منظرنامے، بالخصوص کراچی میں، کو بدلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں سانحہ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، کچھ نہیں بدلتا۔ ہاں، چند روز تک شور شرابا رہتا ہے، مذمتیں ہوتی ہیں اور یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ آئندہ ایسے سانحات رونما نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ حال ہی میں بے دردی سے قتل کیے جانے والے نوجوان تاجر ہی کی مثال لے لیجیے۔
اس سانحے پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور قاتلوں کو کسی صورت نہ بخشنے اور اس واردات کے پس پردہ عناصر کو گرفتار کرنے کے پُرعزم دعوے سامنے آئے۔ لیکن ایسے ہی پُرعزم دعوے اس وقت بھی کیے گئے تھے جب اپنے اہل خانہ کے ساتھ شاپنگ سینٹر جانے والا ایک کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس سانحے کے بعد چند روز تک اتنی شدید مذمت اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کے مطالبات سامنے آئے کہ یوں لگتا تھا اب ایسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا، لیکن شہر کے دوسرے علاقوں میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے۔ ایک وکیل کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست کے مطابق کھلے مین ہولز کے باعث 23 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ان افسوس ناک واقعات کا ذمہ دار کسی ایک فرد یا ادارے کو قرار نہیں دیا جا سکتا، اصل مسئلہ پورا نظام ہے جو برسوں سے جمود کا شکار ہے اور جس میں مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک نے اپنے ہاں کیا ہے۔
کولمبیا کا شہر میڈیلین اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں گزشتہ برسوں کے دوران غریب آبادیوں اور امن و امان کے نظام پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرکے صورتحال میں نمایاں بہتری لائی گئی۔ میڈیلین میں قتل کی شرح میں 95 فیصد کمی آئی اور سالانہ قتل کی تعداد 6 ہزار سے گھٹ کر صرف 300 رہ گئی۔ جرائم سے نبرد آزما ممالک کے لیے یہ ایک واضح اور قابلِ پیمائش کامیابی لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔
کولمبیا میں مجموعی طور پر بھی 2000 سے اب تک قتل کی شرح 60 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ بلند اہداف محض پولیس چھاپوں یا طاقت کے بے جا استعمال سے حاصل نہیں کیے گئے بلکہ غریب ترین علاقوں میں سرمایہ کاری کی گئی۔ ایک مثال کچی آبادیوں کو شہر کے مرکزی علاقوں میں روزگار کے مراکز سے جوڑنا ہے، جس سے وہاں پہنچنے کا وقت دو گھنٹے سے کم ہو کر صرف 30 منٹ رہ گیا۔
جرائم کے خلاف ایک مؤثر حکمتِ عملی یہ بھی تھی کہ گینگز کے قبضے سے زمین واگزار کراکے انہی علاقوں میں لائبریریاں، اسکول اور پارکس تعمیر کیے گئے، جو کبھی مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے قبضے کے باعث خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ جرائم کے خاتمے کے لیے کولمبیا کی مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور اس کے طریقۂ کار کو اب ’’گینگز سے شہر واپس لینے‘‘ کے موضوع پر ایک کیس اسٹڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
دنیا میں کئی ایسے ممالک بھی ہیں جو امن و امان کے حوالے سے معروف ہیں اور جہاں مقامی افراد اور سیاح آدھی رات کو بھی بلاخوف گھوم پھر سکتے ہیں، انہیں لُٹنے یا قتل کیے جانے کا ڈر نہیں ہوتا۔ ہمارے لیے قریب ترین مثال سنگاپور کی ہے۔ وہاں ہر شعبے کی طرح امن و امان کا نظام بھی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہے۔
ذرا تصور کیجیے، سنگاپور بڑے پیمانے پر نگرانی کے کیمروں کے نیٹ ورک سے ڈھکا ہوا ہے۔ وہاں پولیس کے 90 ہزار سے زائد کیمرے نصب ہیں، جبکہ عوامی رہائشی عمارتوں اور دکانوں میں موجود ہزاروں مزید کیمرے اس کے علاوہ ہیں۔ ان تمام کیمروں کی فوٹیج ایک مرکزی کمانڈ سینٹر کو موصول ہوتی ہے، جہاں اجتماعی ڈیٹا کا تجزیہ کرکے جرائم کے رجحانات کی نشاندہی اور اسی حساب سے نفری تعینات کی جاتی ہے۔ یہاں رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پولیس کا رسپانس ٹائم 10 سے 11 منٹ ہے۔
نتیجہ ایک ایسا ملک ہے جو غیر معمولی طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، جہاں پرتشدد جرائم، ڈکیتی اور گاڑیوں کی چوری کی شرح دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ ایک حالیہ سروے میں سنگاپور کے 90 فیصد شہریوں نے کہا کہ وہ خود کو وہاں محفوظ سمجھتے ہیں۔
کولمبیا سے سنگاپور تک جرائم پیشہ عناصر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جدید طریقے اپنائے جائیں اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
ماضی قریب میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی کچھ کوششیں ضرور ہوئی ہیں، لیکن ان کا زیادہ تر استعمال معمولی خلاف ورزیوں، مثلاً سرخ بتی عبور کرنے یا اسٹاپ سائن پر نہ رکنے تک محدود رہا ہے۔ سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے زیادہ سائنسی اندازِ فکر اور جرائم پیشہ عناصر کی شناخت کے لیے ایک منظم نظام صورتحال میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
سنگاپور اور کولمبیا سے ملنے والے اسباق ہمیں جرائم کے منظرنامے، بالخصوص کراچی میں، کو بدلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026