✕
رائے

10 ارب ڈالر کا سوال

  • امریکی بیک اسٹاپ پاکستان کے لیے انحصار سے خود انحصاری کی جانب ایک پل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب اسے ایک قرض دہندہ سے دوسرے قرض دہندہ تک پہنچنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ایسی مالیاتی اور ساختی اصلاحات کے ساتھ بروئے کار لایا جائے جو بار بار بیرونی مالی امداد کی ضرورت ختم کر دیں۔ بصورتِ دیگر 10 ارب ڈالر پاکستان کو صرف مزید وقت دیں گے، بحران سے نکلنے کا راستہ نہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی جانب سے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست نے توقعات، خدشات اور کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن پاکستان کو ایک اور مالی سہارا فراہم کر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ سہارا پاکستان کو بار بار دوطرفہ قرضوں کے رول اوور، کیپیٹل مارکیٹ سے قرض لینے اور بالآخر آئی ایم ایف پر انحصار سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے لیے مجوزہ طریقہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وضاحت کی کہ مجوزہ امریکی سہولت بذاتِ خود 10 ارب ڈالر کا روایتی قرض نہیں، بلکہ ایسا طریقہ کار ہے جس کا مقصد پاکستانی کرنسی پر اعتماد بحال کرنا اور ملک کو عالمی کیپیٹل مارکیٹ سے طویل مدتی فنڈز حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے، تاکہ دوطرفہ معاونت پر انحصار کم کرتے ہوئے مارکیٹ پر مبنی فنانسنگ کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔ حکومت دوطرفہ بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی بلکہ انہیں طویل مدتی مارکیٹ بیسڈ قرضوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان اس وقت تین دوطرفہ قرض دہندگان، سعودی عرب، چین اور کویت، کا مجموعی طور پر 12.3 ارب ڈالر کا قلیل مدتی قرض دار ہے۔ سعودی عرب نے حال ہی میں 5 ارب ڈالر کی رقم دسمبر 2028 تک رول اوور کی ہے، جبکہ مزید 3 ارب ڈالر تین ماہ کے لیے فراہم کیے ہیں۔ چین ہر سال 4 ارب ڈالر رول اوور کرتا ہے۔ تاہم ان رول اوورز کی ایک سیاسی قیمت بھی ہے اور اس کے نتیجے میں ملکی مالیاتی خودمختاری پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ مثال متحدہ عرب امارات کی ہے، جس نے مختصر نوٹس پر اپنی رول اوور سہولت واپس لے لی، جس کے بعد پاکستان کو اس کے متبادل کے لیے فوری طور پر سعودی عرب سے رجوع کرنا پڑا۔

وزیر خزانہ کی جانب سے دی گئی وضاحت ملک کے مالیاتی منظرنامے کے تناظر میں بظاہر قابلِ فہم اور امید افزا ہے۔

یہاں سے مجوزہ سہولت کے طریقہ کار کو سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ آخر ہے کیا؟

امریکی محکمہ خزانہ کا ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) امریکی وفاقی قانون، گولڈ ریزرو ایکٹ 1934 کے تحت قائم کیا گیا ایک خصوصی مالیاتی ادارہ ہے۔ اس کے پاس ڈالر، غیر ملکی کرنسیاں اور آئی ایم ایف کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس موجود ہوتے ہیں، جبکہ یہ زرمبادلہ سے متعلق کارروائیاں کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی حکومتوں کو مالی معاونت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے امریکی وزیر خزانہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ای ایس ایف کوئی ترقیاتی بینک یا روایتی غیر ملکی امدادی ادارہ نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مالیاتی اور شرحِ مبادلہ کا استحکام ہے۔ ماضی میں اس کے ذریعے غیر ملکی حکومتوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت عموماً عارضی نوعیت کی رہی ہے اور اکثر اسے اس وقت تک عبوری سہولت کے طور پر استعمال کیا گیا جب تک آئی ایم ایف یا دیگر کثیرالجہتی اداروں سے فنانسنگ دستیاب نہ ہو جائے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی پالیسی کے تحت قرض کی واپسی کا یقینی ذریعہ بھی درکار ہوتا ہے اور ماضی میں ای ایس ایف کی معاونت کو اکثر آئی ایم ایف پروگراموں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی تجویز دلچسپ بن جاتی ہے۔ اگر اطلاعات کے مطابق واشنگٹن پانچ سالہ بیک اسٹاپ یا استحکامی ضمانت فراہم کرتا ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ مبادلہ سے متعلق خطرات کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کا تاثر بہتر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سے مطلوب رسک پریمیم کم ہو سکتا ہے۔

اس طرح اس سہولت کا فائدہ دراصل حاصل کیے جانے والے نقد فنڈز سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایک قابلِ اعتبار امریکی ضمانت پاکستان کو یورو بانڈز، سکوک اور دیگر مارکیٹ انسٹرومنٹس کے ذریعے طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی ہے۔ پاکستان نسبتاً قلیل مدتی دوطرفہ فنانسنگ کو مارکیٹ پر مبنی قرضوں سے تبدیل کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔ اس سے دوست ممالک پر سیاسی انحصار تو کم ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کا بیرونی قرض کم نہیں ہوگا۔ صرف قرض دہندہ، قرض کی مدت اور ممکنہ طور پر قرض لینے کی لاگت تبدیل ہوگی۔

درحقیقت، مارکیٹ سے حاصل کیا جانے والا قرض رعایتی یا باہمی تعلقات کی بنیاد پر ملنے والے دوطرفہ ڈپازٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ ’B‘ تک بہتری حوصلہ افزا ہے، لیکن ملک اب بھی انویسٹمنٹ گریڈ سے نیچے ہے۔ اس لیے پاکستان یہ فرض نہیں کر سکتا کہ امریکی بیک اسٹاپ سے خودبخود سستی فنانسنگ دستیاب ہو جائے گی۔ مارکیٹ اب بھی مالیاتی خسارے، قرضوں کی پائیداری، زرمبادلہ کے ذخائر، ٹیکس وصولی، توانائی کے شعبے کے نقصانات اور سیاسی استحکام کا جائزہ لے گی۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب اور چین نے پاکستان کو بارہا ڈپازٹس، قرضوں کے رول اوور اور دیگر قلیل مدتی معاونت اسی لیے فراہم کی ہے کہ پاکستان اپنے وسائل سے زرمبادلہ کا خاطر خواہ بفر بنانے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے پروگرام کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فنانسنگ کا تسلسل بدستور انتہائی اہم ہے۔

امریکی بیک اسٹاپ وقت کے ساتھ پاکستان کے بیرونی فنانسنگ ذرائع کو متنوع بنا سکتا ہے اور بار بار قرضوں کے رول اوور کے لیے درخواستیں کرنے کی ضرورت کم کر سکتا ہے۔

یہ معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی پوزیشن مضبوط کیے بغیر قابلِ اعتماد دوطرفہ ڈپازٹس کی جگہ مہنگا مارکیٹ قرض لے لیا گیا تو ایک کمزوری کی جگہ دوسری کمزوری لے لے گی۔

اس لیے اصل امتحان آنے والے برسوں میں آئی ایم ایف پروگرام پر انحصار ختم کرنا ہے۔

پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام 37 ماہ پر محیط تقریباً 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) ہے، جس کی منظوری ستمبر 2024 میں دی گئی تھی۔ مئی 2026 تک ای ایف ایف اور اس کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت تقریباً 4.8 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے تھے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو مالیاتی استحکام، محصولات میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی جیسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔

امریکی بیک اسٹاپ مستقبل میں آئی ایم ایف سے نکلنے کو زیادہ قابلِ عمل بنا سکتا ہے، لیکن یہ بنیادی اصلاحات کی ضرورت ختم نہیں کر سکتا۔ آئی ایم ایف پر انحصار دراصل پاکستان کے ساختی عدم توازن کی علامت ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ناکافی ملکی محصولات، مسلسل مالیاتی خسارے، کمزور برآمدات، توانائی کے شعبے کی نااہلی اور بار بار پیدا ہونے والی زرمبادلہ کی قلت شامل ہیں۔

اس لیے یہ موقع بہت اہم ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب پاکستان امریکی سہولت کو انحصار سے خود انحصاری کی جانب ایک پل کے طور پر استعمال کرے، نہ کہ ایک قرض دہندہ سے دوسرے قرض دہندہ تک پہنچنے کے لیے ایک اور پل کے طور پر۔

مقصد واضح ہونا چاہیے: امریکی بیک اسٹاپ کی ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے قرضوں کی مدت بڑھائی جائے، زرمبادلہ کے ذخائر بحال کیے جائیں، کیپیٹل مارکیٹ کو وسعت دی جائے اور سرمایہ کاری راغب کی جائے، جبکہ ساتھ ہی ایسی مالیاتی اور ساختی اصلاحات کی جائیں جو بار بار بیرونی مالی امداد کی ضرورت ختم کر دیں۔

بصورتِ دیگر 10 ارب ڈالر پاکستان کو صرف مزید وقت دیں گے، بحران سے نکلنے کا راستہ نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026