✕
ٹیکنالوجی

گوگل نے پاکستان میں آن لائن سیفٹی کے فروغ کیلئے ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کردیا

  • پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے جمعرات کو ڈیجیٹل پاسبان کے نام سے ایک قومی اقدام متعارف کرایا
شائع اپ ڈیٹ

گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کردیا ہے اور گوگل ڈاٹ او آر جی کے ذریعے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے تحت دو لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں ڈیجیٹل سیفٹی ٹولز، والدین کے لیے ورکشاپس اور اے آئی سیفٹی کے وسائل فراہم کیے جائیں گے، جن کا مقصد خاندانوں کو بڑھتے ہوئے آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے جمعرات کو ڈیجیٹل پاسبان کے نام سے ایک قومی اقدام متعارف کرایا، جس کے تحت ملک بھر کے گھروں تک عملی آن لائن سیفٹی ٹولز براہ راست پہنچائے جائیں گے۔

سیف رہو ود گوگل تقریب میں متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل پاسبان اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ والدین اور بچوں کو بااختیار بنایا جاسکے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ خاندان تعلیم، تفریح اور روزمرہ کے کاموں کے لیے آن لائن دنیا سے منسلک ہورہے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد دولاکھ گھرانوں تک مقامی ضروریات کے مطابق تیار کردہ اردو ٹول کٹس، رہنمائی پر مبنی ویڈیوز اور عملی تربیت پہنچانا ہے۔

ملک گیر اس کوشش میں اہم شراکت دار شامل ہیں، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ٹیک ویلی، بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، جاز ورلڈ اور ہم نیٹ ورک شامل ہیں۔ اس اقدام کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی حمایت حاصل ہے۔

ڈیجیٹل پاسبان آن لائن سیفٹی ٹولز کو ڈیجیٹل لٹریسی کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس کی توجہ 4 بنیادی ستونوں پر مرکوز ہے:

  • فیملی لنک: یہ والدین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مفت پیرنٹل کنٹرول ایپ کے ذریعے اسکرین ٹائم، ایپس کی منظوری، مواد کے فلٹرز اور ڈیوائس کی لوکیشن سمیت بنیادی امور کو کنٹرول کرسکیں۔
  • یوٹیوب: یہ عمر کے لحاظ سے موزوں مواد کی سیٹنگز اور وقت کے انتظام کے لیے ٹیک اے بریک اور بیڈ ٹائم ریمائنڈرز جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ان کنٹرولز کی بنیاد پر ایک صنعتی سطح کی پہلی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے والدین یہ طے کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے شارٹس کتنے وقت تک دیکھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت کو صفر بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے خاندانوں کو یہ سہولت ملتی ہے کہ جب بچوں اور نوعمروں کو پڑھائی یا اسکول کے کام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہو تو مختصر ویڈیو مواد کو مکمل طور پر روک سکیں۔
  • بی انٹرنیٹ اوسم: یہ ڈیجیٹل شہریت کے تصور کو 7 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایسے مواد میں تبدیل کرتا ہے جسے وہ حقیقتاً دریافت کرنا پسند کریں۔ یہ پروگرام 5 بنیادی اصولوں پر مبنی ہے: احتیاط کے ساتھ معلومات شیئر کرنا، فراڈ سے بچنا، پاس ورڈز کو محفوظ رکھنا، دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا اور خدشات کی رپورٹ کرنا۔ یہ عادات انٹرایکٹو آن لائن گیم انٹرلینڈ کے ذریعے مزید مضبوط کی جاتی ہیں۔
  • جیمنائی: یہ والدین کو اپنے بچوں کی جانب سے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی رہنمائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ گوگل کے اسسٹنٹ کو خاندانوں کے سامنے ایک ٹول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی ساتھی یا انسان کے طور پر۔ نابالغ افراد کے لیے اس میں حفاظتی اقدامات موجود ہیں، جو نقصان دہ کرداروں کے طور پر رول پلے کو محدود کرتے اور نامناسب مواد کو روکتے ہیں۔

اس کے علاوہ جیمنائی کا گائیڈڈ لرننگ فیچر اے آئی ٹیوٹرنگ موڈ کے طور پر کام کرتا ہے، جو طلبہ کو پیچیدہ موضوعات سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ براہ راست جواب دینے کے بجائے ہدفی سوالات پوچھتا، مسائل کو مرحلہ وار تقسیم کرتا اور بصری معاونت فراہم کرتا ہے۔

ڈیجیٹل پاسبان براڈکاسٹ میڈیا، ایس ایم ایس الرٹس، شراکت داروں کی سوشل میڈیا مہمات اور اسکولوں میں ٹاؤن ہالز کے ذریعے آن لائن سیفٹی کو براہ راست مقامی کمیونٹیز تک پہنچائے گا۔

اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ والدین اور سرپرستوں کے لیے سیفٹی کلینکس ہیں، جہاں خاندان انٹرایکٹو اور عملی ورکشاپس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ سیکھ سکیں گے۔ والدین مل کر حقیقی زندگی سے متعلق آن لائن سیفٹی صورتحال سے نمٹنے کی مشق کرسکیں گے، جس سے بچوں کو آن لائن سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل لٹریسی اور مشترکہ اعتماد پیدا ہوگا۔

اس کے علاوہ گوگل ڈاٹ او آر جی ملک بھر میں شواہد پر مبنی ڈیجیٹل سٹیزن شپ اور اے آئی سیفٹی پروگرامز کو وسعت دینے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ فنڈنگ نوجوانوں اور بالغ افراد کو صحت مند آن لائن عادات اپنانے اور ڈیجیٹل خطرات سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے کے لیے ضروری ٹولز فراہم کرنے میں مدد دے گی۔

پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان گوگل کے ساتھ پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عملی ٹولز، مقامی ضروریات کے مطابق وسائل اور اسکولوں کی سطح پر رابطے کے ذریعے یہ اقدام والدین کو اپنے بچوں کو زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل تجربات کی جانب رہنمائی کرنے کے لیے بااختیار بنائے گا۔انہوں نے اس اہم ملک گیر کوشش میں گوگل اور تمام شراکت دار اداروں کے کردار کو سراہا۔

گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے لیے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم مسلسل ترقی کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ سیکھنے، تخلیق کرنے اور رابطے میں رہنے کے لیے آن لائن آرہے ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کا مطلب بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا نہیں بلکہ اس میں ان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ گوگل اس عزم کو ایسے پروڈکٹس تیار کرکے پورا کرتا ہے جو پہلے سے محفوظ اور سکیور بنائے جاتے ہیں، اور ہم ڈیجیٹل پاسبان جیسے اقدامات کے ذریعے اس بنیاد کو مزید مضبوط کرتے ہیں تاکہ خاندانوں کو ضروری ڈیجیٹل لٹریسی سے بااختیار بنایا جاسکے۔ جس طرح ایک بچے کی پرورش کے لیے پورے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح پاکستان کے ہر خاندان کو اعتماد کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔

ٹیک ویلی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمر فاروق نے کہا کہ ایک دہائی سے ٹیک ویلی پاکستان کے کلاس رومز تک دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی پہنچانے کے لیے کام کررہی ہے، لیکن صرف رسائی کافی نہیں ہے۔ ملک بھر کے والدین ہمیں ایک ہی بات بتاتے ہیں: ڈیجیٹل دنیا اس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے جس رفتار سے وہ اپنے بچوں کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہیں، اور یہی خلا پریشانی کو جنم دیتا ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ سیفٹی کلینکس، والدین کے لیے ٹول کٹس اور عملی رہنمائی کے ذریعے یہ اقدام تشویش کو اعتماد میں تبدیل کرتا ہے، ایسی رہنمائی جو خاندان سیکھنے کے اسی دن استعمال کرسکتے ہیں۔ دو لاکھ گھرانوں تک پہنچنا ہمارے سفر کا آغاز ہے، اختتام نہیں، اور ہم پاکستان بھر کے ہر والدین اور استاد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر زیادہ محفوظ ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دیں۔

جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر ابراہیم نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان والدین اور بچوں تک عملی سیفٹی ٹولز، آگاہی اور رہنمائی پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں گوگل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے تاکہ زیادہ محفوظ، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کی تعمیر میں مدد کی جاسکے۔

ڈیجیٹل پاسبان پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں گوگل کی طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل سفر اقدام کے ذریعے گوگل اب تک تین لاکھ سے زائد طلبہ اور 5,000 اساتذہ کو ڈیجیٹل سٹیزن شپ کی تربیت دے چکا ہے۔ اس پروگرام میں بی انٹرنیٹ اوسم کے مواد کو جیمنائی اکیڈمی کی تربیت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

اس بنیاد کو پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جس کے تحت پنجاب کی وزارتِ تعلیم کو گوگل فار ایجوکیشن پر منتقل کیا گیا اور 1.5 ملین طلبہ تک محفوظ، اے آئی سے چلنے والے تعلیمی ٹولز اور سیفٹی نصاب پہنچایا گیا۔