امریکا ایران تعطل، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بدستور محدود
- اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے مجموعی طور پر 9 اجناس بردار بحری جہاز گزرے، جو منگل کے برابر تعداد ہے
تازہ ترین شپنگ ڈیٹا کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت ایک روز قبل کے مقابلے میں تبدیل نہیں ہوئی، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔
شپ ٹریکنگ ادارے کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے مجموعی طور پر 9 اجناس بردار بحری جہاز گزرے، جو منگل کے برابر تعداد ہے۔
امریکا اور ایران کے متضاد دعووں کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بدستور کم سطح پر رہی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور آبنائے ہرمز کھلی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ آبی گزرگاہ بدستور بند ہے۔
دریں اثنا مشرق وسطیٰ کی ایک اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت مزید سست ہوگئی۔
کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو مجموعی طور پر 27 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے باب المندب سے گزرے، جبکہ منگل کو یہ تعداد 32 تھی۔
کچھ بحری جہاز ممکنہ طور پر اپنے ٹرانسپونڈرز بند کرکے ان آبی گزرگاہوں سے گزر رہے ہیں، تاہم ایسے جہازوں کو مذکورہ اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔