کیا نجکاری تمام مسائل کا علاج ہے؟
- کسی بھی ملک کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثے فروخت نہیں کرنے چاہئیں، ہم آج کے مسائل حل کرنے کے لیے مستقبل کے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ قابلِ عمل نہیں تو اسے بند کر دینا چاہیے
گزشتہ کئی برسوں کے دوران سرکاری اداروں (ایس او ایز) میں ہونے والی بدعنوانی اور بدانتظامی کے باعث یہ تصور عام ہوچکا ہے کہ اگر کسی بیمار یا خسارے میں چلنے والے اثاثے کو حکومتی ملکیت سے نکال کر نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے تو اس سے حکومت اور نجی شعبہ، دونوں کے لیے منافع بخش نتائج برآمد ہوں گے۔
یہ سوچ کسی ٹھوس اور جامع تجزیے سے پہلے ہی قائم کرلی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ تصور تقریباً حتمی حقیقت کے طور پر جڑ پکڑ چکا ہے کہ نجی شعبے کی کمپنیاں سرکاری اداروں سے بہتر ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔
ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں بالخصوص وہ ممالک جہاں معاشی استحکام مسلسل خطرے میں ہو، نجکاری کا سہارا اس امید پر لیتی ہیں کہ اس کا بڑا فائدہ ملک کو یہ ہوگا کہ سرکاری قرضوں میں کمی آئے گی۔ تاہم بہت کم لوگ اس پیچیدہ سلسلے کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخر وہ بدانتظامی کیسے جنم لیتی ہے جو سرکاری اداروں کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے۔
ادارے صرف اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے قرض نہیں لیتے بلکہ پیداواری صلاحیت، منافع اور ترقی میں اضافے کے لیے بھی قرض حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی ادارے کی بیلنس شیٹ پر قرض موجود ہے تو اس کے مقابلے میں متعلقہ اثاثے کہاں ہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ قرض کی رقم آخر کہاں خرچ کی گئی؟
اگر قرض آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے حاصل کیا گیا ہو تو ممکن ہے کہ اس سے آمدنی کے خاطر خواہ ذرائع پیدا نہ ہوں۔
قلیل مدتی قرض، جسے ورکنگ کیپیٹل کہا جاتا ہے، کو اس طویل مدتی قرض سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے جو کسی کاروبار کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ معیشت کوئی ایک رات میں ہونے والا معاملہ نہیں۔ اگر قرض کو انتظامی اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے غلط استعمال کیا جائے تو کیا اس کا تعلق واقعی ’’ملکیت‘‘ سے ہے؟ یا یہ اس ’’انتظامی معیار‘‘ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سرکاری ادارے کو چلایا جا رہا ہے؟
نجکاری کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ’’ریاست‘‘ کاروبار چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ بات درست بھی ہے، کیونکہ کاروبار چلانا ریاست کا بنیادی کام نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم جب کسی کاروباری ادارے کو عوامی شعبے میں قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو ضروری ہے کہ اس کا انتظام ایسے ’’پیشہ ور افراد‘‘ کے ہاتھ میں دیا جائے جو نہ صرف مطلوبہ تربیت رکھتے ہوں بلکہ اسی نوعیت کے کاروبار چلانے کا عملی تجربہ بھی رکھتے ہوں۔
ایسا نہ کرنا نجکاری کو ملکیت کی کوئی پُرکشش، دلکش یا معاشی طور پر انتہائی فائدہ مند شکل ثابت نہیں کرتا۔
کاروبار منافع کمانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ حکومتوں سے عموماً توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کو منافع کے مقصد کے بغیر خدمات فراہم کریں گی۔ تاہم جب حکومت معیشت کے بعض شعبوں کو سرکاری ملکیت میں رکھنے کا فیصلہ کرے تو اسے اس کسوٹی پر پورا اترنا چاہیے کہ یہ ایک منافع بخش منصوبہ ثابت ہو۔
نجکاری سے وابستہ توقعات دراصل ان بیوروکریٹس کی غلط فیصلہ سازی کا نتیجہ ہیں جنہیں سرکاری کاروباری ادارے چلانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ کسی بھی معاشیات کے طالب علم سے نجکاری کے فوائد پوچھیں تو وہ فوراً گنوانا شروع کر دے گا کہ اس سے کاروباری کارکردگی بہتر ہوتی ہے، نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی اور بہتر پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں لیکن یہ تمام نکات اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات دراصل کاروباری اداروں کے انتظام سے متعلق ہیں، ملکیت سے نہیں۔
وسائل فطری طور پر محدود ہوتے ہیں اور حکومتی وسائل تو اس سے بھی زیادہ محدود ہیں، خصوصاً ان ممالک میں جہاں متوازی معیشت کا حجم رسمی معیشت کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو۔ چنانچہ جب سرکاری ادارے مسلسل کئی برس خسارے میں جانے لگتے ہیں تو انہیں چلتا رکھنے کے لیے پہلے سے محدود حکومتی وسائل پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔
خسارہ اس صورت میں سامنے آتا ہے جب مارکیٹ کو غلط سمجھا جائے یا پھر من مانے اور احمقانہ فیصلے صارد کیے جائیں۔ بعض معاملات میں فیصلہ کن اقدام کرنے میں تاخیر بھی مسئلے کو سنگین بنا دیتی ہے۔ انتظامی جمود کا تعلق اس بات سے نہیں ہوتا کہ ادارے کا مالک کون ہے۔
1970 کی دہائی میں اہم صنعتوں کو تباہ کن قومیانے کے فوراً بعد انہی اداروں کی نجکاری کا مطالبہ شروع ہوگیا تھا۔ سوشلسٹ سوچ رکھنے والی حکومت قومیانے کے ذریعے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی انہیں بدعنوان عناصر نے ناکام بنا دیا۔ سرکاری اداروں میں اقربا پروری اور جانبداری نے جڑیں مضبوط کرلیں۔
جو ادارے بنیادی طور پر منافع بخش انداز میں چل رہے تھے انہیں غلط اور دانستہ انسانی وسائل کی پالیسی کے ذریعے تباہ کردیا گیا۔ تشکیل دیے گئے بورڈز میں ایسے افراد شامل کیے گئے جو یا تو متعلقہ ذمہ داریوں کے لیے موزوں نہیں تھے یا سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرتے تھے۔ ایسے بورڈز جو ریاست ہو یا نجی شعبہ، مالک کے احکامات کے تابع رہیں، بالآخر ادارے کے لیے اثاثے نہیں بلکہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
ایسے اثاثوں یا دوسرے لفظوں میں بوجھ کی فروخت کے وقت حکومت کو بہتر قیمت حاصل کرنے کے لیے اپنی مذاکراتی پوزیشن سے خاصا سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جہاں خریدار کے حق میں دی جانے والی رعایتوں اور مراعات کی فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
قومیائے گئے کمرشل بینک 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں بھاری خسارے کا شکار تھے۔ آج یہی بینک غیر معمولی منافع کما رہے ہیں، جو ہر سال 100 ارب روپے سے بھی تجاوز کرنے کی توقع ہے تو پھر اب کیا مختلف ہے؟ کیا یہ محض ملکیت کی منتقلی کا نتیجہ ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور حقیقت بھی ہے جسے ہم اجتماعی نادانی کے باعث نظرانداز کرنا چاہتے ہیں؟ کیا بینکوں کی نجکاری سے کوئی بہت بڑی نئی سرمایہ کاری ہوئی؟ نہیں۔
اصل فرق پیشہ ورانہ انتظامی نظام کا ہے، جو اچھی طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتا ہے اور مالکان یا ریاست، کسی کو بھی کاروباری معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ پیشہ ور انتظامیہ آزادانہ طور پر فیصلے کرتی ہے۔ اب نہ سیاسی بنیادوں پر قرضے دیے جاتے ہیں اور نہ ہی غیر معیاری افرادی قوت کی بڑے پیمانے پر بھرتیاں ہوتی ہیں۔ بس یہی بنیادی فرق ہے۔
حکومت کو صرف یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے انتظامی معاملات پر اثرانداز ہونا بند کرے۔ ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اس کے لیے پختہ عزم درکار ہے کہ ان اداروں کے کاروباری معاملات میں بلاوجہ مداخلت نہیں کی جائے گی۔
حکومتی مداخلت کی خرابیوں ہی کی وجہ سے ہم نجکاری کو اہمیت دیتے ہیں۔ اداروں کی خودمختاری اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بورڈز میں پیشہ ور افراد شامل کیے جائیں اور ایک مضبوط قواعد وضوابط کا نظام قائم ہو، جس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔
اب تک کی گئی تمام نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ کی گئی؟ کیا اسے قرضوں کے انتظام کے اس گہرے گڑھے میں جھونک دیا گیا؟ کیا ہم نے ایک اثاثہ فروخت کرکے کوئی نیا اثاثہ بنایا یا محض بے دریغ اخراجات کیے اور اسے بھی قرضوں کا انتظام قرار دے دیا؟
اگر ایک خاندان اپنی چاندی بیچنے سے گریز کرتا ہے تو کوئی ملک مستقل طور پر اپنے قیمتی اثاثے کیوں فروخت کرتا رہے؟ سرکاری اداروں کو خسارے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں پیشہ ور انتظامیہ کے حوالے کیا جائے، جو مروجہ کاروباری اصولوں کے مطابق ادارے چلائے۔ اس طرح ادارہ اپنی ترقی کے لیے خود وسائل پیدا کرنا شروع کر دے گا۔
اگر کہیں ناکامی ہو تو اس کا سامنا مؤثر نظامِ احتساب، انتظامیہ میں تبدیلی اور اصلاحات کے ذریعے کیا جانا چاہیے، ملکیت تبدیل کرکے نہیں۔ ہم کارپوریٹ جنازوں کا انتظام کرنے میں حد سے زیادہ وقت لگا دیتے ہیں۔ خزانہ داری کی اصطلاح میں ہمیں خسارے کو جلد از جلد روکنے کا ہنر سیکھنا ہوگا اور مشکل مگر ضروری فیصلے بروقت کرنے ہوں گے۔
کسی بھی ملک کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثے فروخت نہیں کرنے چاہئیں۔ ہم آج کے مسائل حل کرنے کے لیے مستقبل کے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ قابلِ عمل نہیں تو اسے بند کر دینا چاہیے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026