✕
دنیا

سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے ٹرمینلز سے تیل کی لوڈنگ اور فروخت بحال کردی

  • تین بہت بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں (وی ایل سی سیز)، ملائیشیا پراسپیریٹی، الجزائر پراسپیریٹی اور سنگاپور پراسپیریٹی، نے 2،2 ملین بیرل خام تیل لوڈ کیا
شائع اپ ڈیٹ

سعودی آرامکو نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں واقع اپنے ٹرمینلز سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے، جبکہ مزید ٹینکرز بھی لوڈنگ کے منتظر ہیں۔ شپنگ ڈیٹا اور تجارتی ذرائع کے مطابق ریاستی توانائی کمپنی نے اسپاٹ مارکیٹ میں بھاری خام تیل کے کارگو کی پیشکش بھی شروع کردی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے پیر کو بعض ایشیائی ریفائنریوں کو عرب میڈیم اور عرب ہیوی خام تیل کے کارگو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب جہاز سے جہاز میں منتقلی کے ذریعے لوڈ کرنے کی پیشکش کی۔

گزشتہ ماہ امریکا ایران تنازع میں شدت کے دوران آبنائے ہرمز میں سعودی تیل بردار بحری بیڑے پر حملوں کے بعد سعودی عرب نے کئی ہفتوں تک تیل کی فروخت روک دی تھی۔

سعودی تیل کی برآمدات کی بحالی سے بھاری خام تیل کی محدود رسد میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بھاری خام تیل سے زیادہ مقدار میں باقیات پر مشتمل ایندھن تیار ہوتا ہے، جسے بحری جہازوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جاسکتا ہے یا ریفائنریوں میں مزید پراسیس کرکے پٹرول اور ڈیزل جیسے اعلیٰ معیار کے ایندھن تیار کیے جاسکتے ہیں۔

تین بہت بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں (وی ایل سی سیز)، ملائیشیا پراسپیریٹی، الجزائر پراسپیریٹی اور سنگاپور پراسپیریٹی، نے 12 سے 16 اگست کے دوران جُعیمہ اور رأس تنورہ ٹرمینلز سے فی کس 20 لاکھ بیرل خام تیل لوڈ کیا۔

شپنگ ٹریکرز وورٹیکسا اور کپلر کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان بندرگاہوں سے آخری بار تیل کی لوڈنگ کے بعد تین ہفتے کا وقفہ آیا۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مذکورہ ٹینکرز میں خام تیل کی کون سی اقسام لادی گئی تھیں۔

سعودی آرامکو نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا، جبکہ ٹینکرز کی مالک کمپنی سینوکور نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

کپلر کے عارضی اعداد و شمار کے مطابق مزید چھ وی ایل سی سی ٹینکرز رواں ماہ کے آخر میں آبنائے ہرمز کے اندر سے سعودی تیل لوڈ کرسکتے ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ سعودی آرامکو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے لیے سینوکور کے جہازوں کے علاوہ سعودی ملکیت والے ٹینکرز بھی استعمال کرسکتی ہے۔

ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو سعودی عرب میں قائم آپریٹر بحری کی ملکیت سات وی ایل سی سی ٹینکرز متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب موجود تھے، جبکہ مزید دو فجیرہ کی جانب روانہ تھے۔

سیدی کریر سے برآمدات

تاہم سعودی تیل کی مجموعی برآمدات اب بھی محدود ہیں، کیونکہ سعودی عرب کو بحیرہ احمر میں یمنی حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران آرامکو نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کی جانب موڑ دیا تھا۔

سعودی تیل پیدا کرنے والی کمپنی نے متبادل کے طور پر مصر کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ سیدی کریر سے اضافی خام تیل کے کارگو کی لوڈنگ کی پیشکش کی ہے، تاہم اس کی مقدار ناکہ بندی سے قبل ینبع سے ہونے والی روزانہ 40 لاکھ بیرل کی برآمدات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اضافی شپنگ اخراجات اور طویل سمندری سفر بھی خریداروں کو یہ تیل لینے سے روک رہے ہیں۔

کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ سیدی کریر بندرگاہ سے ایشیا کے لیے روزانہ تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار بیرل مشرقِ وسطیٰ کا خام تیل لوڈ کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران یہاں سے ایشیا کے لیے کوئی تیل لوڈ نہیں کیا گیا تھا۔

وورٹیکسا کی چین مارکیٹ کی تجزیہ کار ایما لی نے کہا، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیا کے لیے سیدی کریر سے تیل کی پیشکش شاید کارگر ثابت نہیں ہو رہی، کیونکہ اس کے ایشیائی خریدار، خصوصاً چینی خریدار، طویل سمندری سفر اور بھاری مال برداری کے اخراجات سے خوش نہیں ہیں۔‘‘