✕
کاروبار اور معیشت

بینک مکرمہ نے ناصر لوتاہ کی 36 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دے دی

  • اس اقدام سے بینک کے سرمایہ جاتی بیس کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی
شائع اپ ڈیٹ

بینک مکرمہ لمیٹڈ (بی ایم ایل) کے بورڈ نے بینک کے اسپانسر ناصر عبداللہ حسین لوتاہ کی جانب سے مزید 10 ارب روپے، یعنی 36 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی تجویز منظور کرلی ہے۔ اس اقدام سے بینک کے سرمایہ جاتی بیس کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ بینک ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے اور اپنی کاروباری سرگرمیوں کو معاونت فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

لسٹڈ بینک نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

نوٹس میں کہا گیا کہ بینک مکرمہ لمیٹڈ نے آج 18 اگست 2026 کو ہونے والے اپنے 159 ویں اجلاس میں بینک کے اسپانسر ناصر عبداللہ حسین لوتاہ کی جانب سے بینک میں مزید 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی موصولہ تجویز پر غور کیا اور اسے منظور کرلیا۔

بی ایم ایل کے بورڈ نے صدر/چیف ایگزیکٹو آفیسر کو بینک اور اسپانسر کے درمیان معاہدہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے جس میں وہ شرائط طے کی جائیں گی جن کے تحت اسپانسر بینک میں 10 ارب روپے جمع کرائے گا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 10 ارب روپے کی یہ رقم بینک کی کتابوں میں شیئرز کی سبسکرپشن کے عوض ایڈوانس کے طور پر درج کی جائے گی جب تک اسپانسر کو رائٹ ایشو کے علاوہ کسی اور طریقے سے شیئرز جاری کرنے کے لیے ریگولیٹری اور کارپوریٹ منظوری حاصل نہیں ہو جاتی۔“

بی ایم ایل کو اس سے قبل سمٹ بینک لمیٹڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی تبدیلی کا عمل اس وقت شروع ہوا جب متحدہ عرب امارات کے معروف سرمایہ کار ناصر عبداللہ حسین لوتاہ نے اپریل 2023 میں سمٹ بینک میں کنٹرولنگ حصص حاصل کیے اور 10 ارب روپے کے عوض 3.98 ارب نئے شیئرز خریدے جس کے نتیجے میں انہیں بینک میں اکثریتی ایکویٹی حصص حاصل ہوگئے۔ لوتاہ کا وژن بینک کو مکمل اسلامی بینک میں تبدیل کرنا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بی ایم ایل کے تنظیمِ نو کے منصوبے کی منظوری دی جس سے بینک کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کم از کم سرمایہ جاتی تقاضوں کو پورا کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ لوتاہ نے فی شیئر 6.25 روپے کی زیادہ قیمت کی بنیاد پر اپنی شیئر ہولڈنگ 86.1 فیصد سے کم کرکے 75.8 فیصد کرنے کی تجویز دی۔

منظوری کے بعد بی ایم ایل نے جنوری میں عدالت سے منظور شدہ اپنے مالیاتی تنظیمِ نو کے منصوبے پر کامیاب عمل درآمد کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں جمع شدہ خسارے ختم ہوگئے اور منافع بخش ترقی کے حصول کی راہ ہموار ہوئی۔