✕
مارکٹس

چاول کی فصل میں بیکٹیریل لیف بلائٹ کا خدشہ، کاشتکاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

  • ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے، محکمہ زراعت
شائع اپ ڈیٹ

ماہرینِ زراعت نے صوبے بھر کے چاول کے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیکٹیریل لیف بلائٹ (پتوں کے جھلسنے کی بیماری) کے خلاف محتاط رہیں۔ واضح رہے کہ بیکٹیریل لیف بلائٹ تباہ کن بیماری ہے اور بعض علاقوں میں اگیتی کاشت کی گئی چاول کی فصلوں میں پہلے ہی دیکھی جا چکی ہے۔

محکمہ زراعت (ایکسٹینشن) کے ترجمان نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ وقت پر حفاظتی اقدامات اپنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری ’زینتھوموناس اورائزی‘ نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے جو کہ سازگار موسمی حالات برقرار رہنے کی صورت میں چاول کے پودوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بیماری کی علامات بیان کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے جو عموماً پتوں کے سروں اور کناروں سے شروع ہوکر لمبائی اور چوڑائی میں پھیلنے لگتا ہے۔ بیماری شدت اختیار کرے تو متاثرہ پتوں پر دودھیا رنگ کا بیکٹیریا نما اخراج ظاہر ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں فصل تیزی سے سوکھنے اور گلنے لگتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا جڑی بوٹیوں اور چاول کی فصل کے باقیات پر زندہ رہ سکتا ہے جبکہ متاثرہ بیج بیماری کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔ معتدل درجہ حرارت کے ساتھ زیادہ نمی، بارش اور کھیتوں میں گہرا کھڑا پانی بیماری کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں تیز ہواؤں یا کیڑوں کے حملوں سے پودوں کو پہنچنے والا فزیکل نقصان انہیں بیماری کے لیے مزید حساس بنا دیتا ہے۔

بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مؤثر تدارک کے لیے محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو نائٹروجن والی کھاد کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز اور لیف فولڈر، سنڈیاں اور ٹڈی دل جیسے کیڑوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔