پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ، سیاسی و عسکری رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے گا، انقرہ
- ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان گزشتہ ہفتے علاقائی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی اور عسکری رابطہ کاری کے نظام قائم کریں گے۔ ترکیہ کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس اتحاد کے تحت دفاعی صنعت میں تعاون بھی مزید مستحکم کیا جائے گا۔
تینوں ممالک نے 7 اگست کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے ان تین مسلم ممالک نے ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو مضبوط کیا ہے جب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی تیل برآمد کرنے والے ممالک بھی ایرانی میزائل حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔
تینوں ممالک کے مطابق معاہدے میں طے کیا گیا ہے کہ کسی بھی رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 کی شق سے مماثلت رکھتا ہے۔
انقرہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترکیہ کی وزارت دفاع نے بتایا کہ قائم کیے جانے والے رابطہ کاری کے نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان شامل ہوں گے۔
وزارت دفاع نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جبکہ دفاعی صنعت میں تعاون کے تحت مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔