محسن نقوی نے ایرانی صدر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اعتماد میں لے لیا
- وزیر داخلہ نے صدر مسعود پزشکیان کو فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام بھی پہنچایا
وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران کے دورے کے دوران بدھ کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں انہیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق اعتماد میں لیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے صدر مسعود پزشکیان کو فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام بھی پہنچایا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر نے پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط کو باہمی تعلقات کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے قریبی تعلقات نہ صرف باہمی مفادات کے لیے اہم ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ان کا دورہ ایران، ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتوں پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں، جبکہ اسلام آباد تہران کے ساتھ جامع تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
محسن نقوی نے اس موقع پر موجودہ معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے امریکی، ایرانی اور خلیجی قیادت سے رابطوں میں مصروف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں میں بھی معاونت کر رہے ہیں۔
دورۂ تہران کے دوران وزیر داخلہ نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر پیٹرولیم محسن پاک نژاد سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، توانائی کے شعبے میں تعاون، پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت، ریفائننگ کے شعبے میں تکنیکی خدمات اور پاک ایران اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔