پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ، لیسکو اور میپکو کی نجی کاری کا عمل آگے بڑھا دیا
- بورڈ کے مطابق لیسکو اور میپکو کی نجی کاری اہم ٹرانزیکشنز ہیں جن کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی تعیناتی ضروری ہے
پرائیویٹائزیشن کمیشن (پی سی) بورڈ نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے، جس کے ساتھ ہی لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجی کاری کا عمل بھی آگے بڑھا دیا گیا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے 257 ویں اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے نجی کاری اور چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن محمد علی نے کی۔
بورڈ نے ایک شفاف مقابلے کے عمل کے بعد دونوں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بطور فنانشل ایڈوائزر تعیناتی کے لیے ای وائی پارتھینون کی سربراہی میں قائم کنسورٹیم کی نامزدگی کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب کنسورٹیم کے ساتھ فنانشل ایڈوائزری سروسز ایگریمنٹ (ایف اے ایس اے) کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں بورڈ نے لیسکو اور میپکو کی نجی کاری کو اہم ٹرانزیکشنز قرار دیتے ہوئے متعلقہ قوانین کے تحت فنانشل ایڈوائزرز کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کمیشن اب ان دونوں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی مقرر کاری کے عمل کا باقاعدہ آغاز کرے گا۔
لیسکو اور میپکو حکومت کی جانب سے نجی کاری کے لیے منتخب کی گئی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے چوتھے بیچ کا حصہ ہیں، جبکہ پہلے تین بیچز کے لیے نجی کاری کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔
بورڈ نے شفافیت، مقابلے اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے ذریعے حکومت کے نجی کاری کے پروگرام کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ حکومت اور پاکستان کے عوام کے لیے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔