کاروبار اور معیشت

نئے پی بی سی چیئرمین کا خسارے میں چلنے والے تمام سرکاری ادارے 12 ماہ میں ہنگامی بنیادوں پر نجی شعبے کے حوالے کرنے پر زور

  • پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) چیئرمین نے برآمدات میں اضافے کو اولین ترجیح قرار دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے نومنتخب چیئرمین زیاد بشیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ جاری نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے اور تمام خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو 12 ماہ کے اندر نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔

بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے زیاد بشیر، جنہوں نے گزشتہ ہفتے پی بی سی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا، نے حکومت کے نجکاری پروگرام کی رفتار کو ’’انتہائی سست‘‘ قرار دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ملکی معیشت کی سمت درست کرنے کے لیے حکومت کو کون سی اہم ترین اصلاحات کرنی چاہئیں تو پی بی سی چیئرمین نے کہا، ’’میری رائے میں سرکاری اداروں سے جتنی جلد ممکن ہو جان چھڑانی چاہیے۔۔۔ جن اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جانا ہے، ان سب کو 12 ماہ کے اندر آف لوڈ کردیا جانا چاہیے۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ ’’یہ کام ہنگامی بنیادوں پر، انتہائی تیز رفتاری سے کیا جانا چاہیے۔‘‘

کاروباری شخصیت نے کہا کہ سرکاری ادارے سالانہ اربوں ڈالر کے خسارے کی صورت میں قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ان کے بقول، ’’اور ہر تاخیر سے مزید اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی خسارے میں چلنے والے ادارے کو معمولی قیمت پر بھی فروخت کرنا معاشی اعتبار سے سودمند ہوسکتا ہے۔

آروِن ٹیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دینے والے زیاد بشیر نے گزشتہ سال پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کو ’’شاندار‘‘ قرار دیا۔

زیاد بشیر نے کہا، ’’جس گروپ (کنسورشیم) نے پی آئی اے خریدی ہے، وہ انتہائی قابل ہے۔ میرے خیال میں اگر حکومت مزید ایسے اچھے کاروباری گروپس کو سرکاری ادارے سنبھالنے کے لیے آگے لاسکے تو وہ ان اداروں کو بحال کرنے اور منافع بخش بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘

گزشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نے خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں حاصل کیے تھے۔

اپنے انٹرویو میں پی بی سی چیئرمین نے برآمدات میں اضافہ اپنی اولین ترجیح قرار دیا اور پاکستان کی بار بار آنے والی معاشی تیزی اور بحران کے چکر کو ساختی عدم توازن سے جوڑا۔

انہوں نے کہا، ’’جب بھی پاکستان کی معیشت ایک خاص رفتار سے بڑھتی ہے، ہم بحران کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ درآمدات برآمدات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہیں۔‘‘

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اگرچہ آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے بعض ذیلی شعبوں میں برآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم مجموعی طور پر اشیا کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

مالی سال 2025-26 میں ملک کی مجموعی برآمدات تقریباً 30.13 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھا اور کرنٹ اکاؤنٹ بھی خسارے میں چلا گیا۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بشیر نے کہا کہ پاکستان کو صرف محصولات یا برآمدات میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بیک وقت برآمدات بڑھانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

’ٹیکس نظام ناکام ہوچکا ہے‘

پی بی سی چیئرمین نے ٹیکس نظام کو ’’مکمل طور پر ناکام‘‘ اور ’’معاشی نمو مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور معیشت کے ان بڑے حصوں کو دستاویزی بنانے پر زور دیا جو اب بھی ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔

بشیر نے کہا، ’’ایسا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹیکس کی شرحیں قابلِ قبول رکھی جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ٹیکس دہندگان کا اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا اور انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ جمع کیے جانے والے محصولات کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ٹیکس ڈھانچے میں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے بشیر نے کہا کہ ریٹیل شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 18 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن ٹیکسوں میں اس کا حصہ صرف تقریباً 1 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا انتہائی ضروری ہے۔ بشیر کے بقول، ’’اگر حکومت 5 لاکھ ریٹیلرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے آئے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔‘‘

بشیر نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں اور محدود ٹیکس بیس کے علاوہ توانائی کی بلند قیمتیں بھی معاشی نمو میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

’بجلی صارفین گرڈ چھوڑ دیں گے‘

انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی پیداواری صارفین کو قومی گرڈ سے نکل کر قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اور اب جب بیٹریوں کی قیمتیں بھی کم ہورہی ہیں تو صارفین مکمل طور پر گرڈ چھوڑ دیں گے۔‘‘

پی بی سی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر آئی ایم ایف سے بات کرنی ہوگی۔ ان کے بقول، ’’انہیں آئی ایم ایف سے بات کرکے اسے اپنے ساتھ ملانا ہوگا۔‘‘

پاکستان اس وقت 37 ماہ کے 7 ارب ڈالر مالیت کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے، جس کی بنیاد چار اہم ستونوں پر ہے: زری و مالیاتی پالیسی کی ساکھ مضبوط کرنا، سرکاری مالیات مستحکم کرنا، قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا اور ساختی اصلاحات نافذ کرنا۔

بشیر نے نشاندہی کی کہ بلند توانائی لاگت اور شرح مبادلہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو محدود کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کی کرنسی کی قدر 110 ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ زیادہ قدر پر ہے، تو درآمدات خود بخود بڑھیں گی۔ ہمیں اسے قدرے کم قدر پر رکھنا ہوگا، لیکن یہ 100 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ تباہ کن ہوگا۔‘‘

بشیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدی مصنوعات کے امتزاج میں بھی تبدیلی لانا ہوگی اور برآمد کنندگان کو زیادہ تکنیکی اور ویلیو ایڈڈ شعبوں میں قدم رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم 30 سال پہلے جو چیزیں برآمد کرتے تھے، وہی آج برآمد نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنی ہر برآمد میں قدر میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘‘

پی بی سی چیئرمین نے عملی اقدامات پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا، جو صنعتی مسابقت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی اور قانون کا نفاذ ضروری ہے۔‘‘ ان کے مطابق مقامی صنعت کاروں کو غیر ملکی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اسمگل شدہ درآمدی اشیا مقامی مارکیٹ میں بغیر کسی ڈیوٹی یا ٹیکس کی ادائیگی کے آسانی سے دستیاب ہیں۔

اختتامی کلمات میں بشیر نے حکومتی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’اگر آپ چھ ماہ بعد جائزہ لیں گے تو بہت دیر ہوچکی ہوگی، نقصان ہوچکا ہوگا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کا وقفے وقفے سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ’’بہت دیر ہوجانے‘‘ سے پہلے اصلاحی اقدامات کیے جاسکیں۔