پاکستان

حکومت کا پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر بحال کرنے کا فیصلہ

ڈیزل پر پٹرولیم لیوی آج بھی خلیجی بحران سے قبل کی سطح سے کم ہے، خرم شہزاد
شائع اپ ڈیٹ

حکومت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی (پی ایل) بتدریج بجٹ میں مقرر کردہ 80 روپے فی لیٹر کی سطح پر بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے، حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود لیوی میں طویل عرصے تک کمی برقرار رکھنے سے محصولات میں کمی، مالیاتی خسارے میں اضافے اور مالی استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اس بات کی تصدیق وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کی۔

مشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی آج بھی خلیجی بحران سے قبل کی سطح سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے لیوی میں عارضی طور پر کمی کی گئی تھی، تاکہ اس اضافے کا پورا بوجھ ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور ڈیزل استعمال کرنے والے دیگر صارفین پر منتقل نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ رواں مالی سال کے لیے قومی اسمبلی سے منظور شدہ محصولات کے تخمینے ڈیزل اور پٹرول دونوں پر اوسطاً 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ ان محصولات کے مقررہ اہداف کا حصول بجٹ میں مختص اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

مشیر نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر پٹرولیم لیوی کو ہنگامی بنیادوں پر کم رکھنے کا سلسلہ غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کے بجائے اسے بتدریج بجٹ میں مقررہ سطح تک بحال کرنا دانشمندانہ اور مالیاتی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محصولات میں کمی سے مالیاتی خسارہ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں بالآخر معیشت اور عوام کو زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔