مارکٹس

ایران جنگ پر سفارتی پیش رفت کی امید، خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 4.44 ڈالر یا 5.3 فیصد کمی کے ساتھ 79.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئے،
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو 5 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ قطر اور امریکا کے حکام کے بیانات سے ایران جنگ کے سفارتی حل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کی امید پیدا ہوئی۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 4.44 ڈالر یا 5.3 فیصد کمی کے ساتھ 79.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.52 ڈالر یا 5.6 فیصد گر کر 75.82 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں معاہدے 13 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی باقی ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کے ساتھ معاہدہ منگل یا بدھ تک طے پا سکتا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی کہا کہ ایران جنگ کے سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور بھی منگل سے شروع ہوا، جو جمعرات تک جاری رہے گا۔

بروکریج فرم کے کاروباری ترقی کے سربراہ سائمن پیٹر مسابنی کے مطابق ممکنہ سفارتی پیش رفت کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی تو منڈی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو مزید کم تصور کرے گی، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

ادھر خلیجی بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازوں کی آمدورفت میں معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق برآمدات اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ گولڈمین سیکس کا اندازہ ہے کہ جب تک امریکا اور ایران کے درمیان نئے معاہدے کی تصدیق یا حملوں میں نمایاں شدت نہیں آتی، برینٹ خام تیل کی قیمت 80 سے 90 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔