✕
مارکٹس

حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

  • گرین وچ معیاری وقت کے مطابق 11:23 بجے تک برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.51 ڈالر، یا 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس پیش رفت سے ایران سے متعلق جنگی کشیدگی میں کمی کی امیدوں کو دھچکا پہنچا، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل معمول پر آنے کی توقعات بھی متاثر ہوئیں۔

گرین وچ معیاری وقت کے مطابق صبح 11:23 بجے تک برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.51 ڈالر یا 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچر 90 سینٹ یا 1.19 فیصد اضافے کے بعد 76.67 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے اہم خام تیل برآمدی مرکز ینبع کی ساحلی حدود کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا۔ یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو کے مطابق اسی خبر نے بدھ کو تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔

سعودی حکام نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔ حملے کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کی ان امیدوں کو بھی دھندلا دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو رہی ہے، خصوصاً قطر کی جانب سے منگل کو یہ بیان آنے کے بعد کہ ثالث جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔

انہی امیدوں کے باعث منگل کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی تھی، اور 13 جولائی کے بعد پہلی بار برینٹ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے بند ہوئی تھی۔

دوسری جانب تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ امن مذاکرات جاری ہیں۔

فلپ نووا کی ہیڈ آف مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوا نے کہا، ”اگرچہ فوری جغرافیائی سیاسی خطرات کا اثر کچھ کم ہوا ہے، لیکن رسد کی مجموعی صورتحال اب بھی احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔“

جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔

آئی جی گروپ کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ بنیادی تنازع یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیا ایران آبی گذرگاہ پر کسی حد تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار کرے گا، اور آیا امریکہ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس مطالبے کو مسترد کرے گا۔

دریں اثنا، مارکیٹ ذرائع نے امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں اضافہ جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

ذرائع کے مطابق 31 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 27 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب چین نے اگست میں ایندھن کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کر دی۔