دنیا

ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں، قطر

  • قطر نے اس سے قبل ایرانی فائرنگ کے باعث مذاکرات کا حصّہ بننے سے انکار کردیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

ثالث ملک قطر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان کسی براہِ راست بات چیت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

خارجہ امور کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ تمام فریقین کے ساتھ کوششیں ابھی بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی تمام تر توجہ ایک مختصر المدتی حل پر مرکوز ہے جو ہمیں بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے اور مکمل طور پر ثالثی کی کوششوں کی جانب واپس لوٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانے پر رضامند ہو گئے ہیں، لیکن تہران کے پاس مذاکرات کا یہ آخری موقع ہے۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ مذاکرات کی بنیادی توجہ آبنائے ہرمز پر ہے اور یہ اہم آبی گزرگاہ حقیقی معنوں میں کل تک کھل سکتی ہے۔ماجد الانصاری نے کہا اس وقت ہماری تمام تر توجہ کشیدگی میں کمی، آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور فریقین کے درمیان سفارت کاری کا دروازہ دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اگر ہم جلد ہی کسی بھی وقت بات چیت کی بحالی حاصل کر لیتے ہیں تو ہم ایک بڑے معاہدے کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی تھی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے اس سے قبل ایرانی فائرنگ کی وجہ سے مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔تہران نے فروری کے اختتام پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں خلیجی ریاستوں کے خلاف غیر معمولی فضائی بمباری کی تھی۔تاہم اس خلیجی ریاست نے حال ہی میں ثالث پاکستان اور روایتی ثالث عمان کے ساتھ مل کر مذاکرات میں زیادہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ماجد الانصاری نے کہا قطر، پاکستان اور اب عمان، یہ تمام ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کو آسان بنانے کے لیے عمانی حکام کے ساتھ بہت قریب سے رابطے میں ہیں اور دونوں جانب سے خیالات اور مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔