پاکستان کی عالمی درجہ بندی
- پاکستان میں استحکام میں بہتری اور بین الاقوامی لین دین میں خطرات میں کمی کے اس اعتراف کی پہلی بڑی وجہ مالی سال 2025-26 میں ادائیگیوں کے توازن کا نسبتاً مضبوط نتیجہ ہے
اچھی خبر یہ ہے کہ حال ہی میں اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دیا ہے۔ اس سے قبل موڈیز نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو Caa1 تک بہتر کیا تھا۔ مجموعی طور پر اب پاکستان کا اسکور 100 میں سے 23 ہے، جبکہ چھ ماہ قبل یہ 21 تھا۔
پاکستان میں استحکام میں بہتری اور بین الاقوامی لین دین میں خطرات میں کمی کے اس اعتراف کی پہلی بڑی وجہ مالی سال 2025-26 میں ادائیگیوں کے توازن کا نسبتاً مضبوط نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا، جو 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس سے تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے محفوظ کوریج فراہم ہوئی۔
پاکستان کے بیرونی قرضوں کو محدود رکھنے کی کوششوں کو بھی شاید مناسب پذیرائی نہیں ملی۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں بیرونی قرضوں کی سطح میں صرف 1.5 ارب ڈالر اضافہ ہوا اور یہ 137.5 ارب ڈالر تک پہنچا۔
روپے کے استحکام نے بھی جی ڈی پی کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے۔ 30 جون 2025 کو بیرونی قرضے جی ڈی پی کا 33.9 فیصد تھے، جبکہ مارچ 2026 کے اختتام تک یہ شرح اندازاً 30.5 فیصد رہ گئی ہے۔
یقیناً اس کارکردگی کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ان اہم اشاریوں میں شامل ہے جن کی بنیاد پر غیر ملکی قرض دہندگان اور سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
اب ہم پاکستان کی دیگر بین الاقوامی درجہ بندیوں کا جائزہ لیں گے، خصوصاً معیشت میں سرمایہ کاری کی کشش اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے۔
اس میں مختلف اشاریے شامل ہیں، جن میں اقتصادی آزادی کا اشاریہ ، حکمرانی (گورننس)، کاروبار کرنے میں آسانی اور بدعنوانی کی سطح شامل ہیں۔ آخر میں مضمون میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں کا بین الاقوامی موازنہ بھی کیا جائے گا، کیونکہ یہ مسابقتی صلاحیت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے سالانہ جاری کیے جانے والے اقتصادی آزادی کے اشاریے میں درمیانی درجہ بندی حاصل ہے۔ تازہ ترین درجہ بندی 2026 کی ہے۔
اس اشاریے کے پانچ بنیادی اجزا ہیں:جائیداد کے حقوق کا احترام، حکومتی دیانت داری کی سطح، عدالتی مؤثریت، ٹیکسوں کا بوجھ، حکومتی اخراجات کے اثرات،ہر جزو اور مجموعی کارکردگی کو 0 سے 100 تک اسکور دیا جاتا ہے۔
پاکستان کا اقتصادی آزادی کے اشاریے میں مجموعی اسکور 48.9 ہے، جو 2022 کے 48.8 کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔
انفرادی شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی ٹیکسوں کے بوجھ اور حکومتی اخراجات کے حوالے سے نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کے حقوق، حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے شعبوں میں اسکور کم ہے۔
جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا اسکور نسبتاً کم ہے۔بنگلہ دیش کا اسکور 54.8، بھارت کا 52.5 اور سری لنکا کا 50.3 ہے پاکستان کو خاص طور پر حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے بارے میں عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سے پاکستان ان ممالک کے برابر آنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اگلی عالمی درجہ بندی ورلڈ بینک کے گورننس میٹرز سے متعلق ہے۔اس میں کارکردگی کے پانچ اشاریے شامل ہیں:اظہار رائے اور احتساب، حکومتی مؤثریت، ریگولیٹری معیار، قانون کی حکمرانی، بدعنوانی پر قابو پانا،ہر اشاریے کا اسکور 0 سے 100 کے درمیان ہوتا ہے۔
پانچوں اشاریوں میں پاکستان کی بہترین کارکردگی ریگولیٹری معیار میں ہے، جہاں اس کا اسکور 43.06 ہے، جبکہ اس کے بعد اظہار رائے اور احتساب کا اسکور 41.60 ہے۔ سب سے کم اسکور بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں ہے، جو 26.11 ہے۔مجموعی طور پر پاکستان کا اوسط اسکور 38.02 ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ مجموعی حکمرانی کے اعتبار سے پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے، جس کا مجموعی اسکور 37.14 ہے۔ خاص طور پر بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں بنگلہ دیش کا اسکور 25.55 ہے۔
پاکستان کی بنگلہ دیش کے مقابلے میں یہ بہتر پوزیشن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔اس انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136 ویں نمبر پر ہے، جبکہ بنگلہ دیش 150 ویں نمبر پر ہے۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستان کی پوزیشن اب بھی بہت کمزور ہے۔
ایک اور معروف عالمی اشاریہ ورلڈ بینک کا ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس ہے۔یہ اشاریہ ممالک کو کاروبار شروع کرنے، تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے، بجلی کے کنکشن کے حصول، جائیداد کی رجسٹریشن اور قرض تک رسائی کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے۔ان تمام شعبوں کے لیے الگ الگ درجہ بندی کے ساتھ مجموعی رینکنگ بھی دی جاتی ہے۔اس اشاریے میں 2025 تک 190 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کو اس اشاریے میں ایک بار پھر مجموعی طور پر درمیانی درجہ بندی حاصل ہوئی ہے، جہاں اس کا رینک 108 ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کی رجسٹریشن کے شعبے میں کارکردگی نسبتاً کمزور ہے۔
دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی، جن میں بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا شامل ہیں، بالترتیب 168، 63 اور 99 ہے۔ یہاں بھی پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے۔
اب ہم مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام پر دستیاب ہیں۔ یہ قیمتیں کسی بھی ملک کی برآمدی مسابقت اور عوام کے معیارِ زندگی کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
آٹھ جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک میں قیمتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 1.203 ڈالر فی لیٹر ہے، جو درمیانی سطح پر ہے۔سری لنکا، تھائی لینڈ، فلپائن اور نیپال میں پیٹرول کی قیمتیں ڈالر فی لیٹر کے حساب سے پاکستان سے زیادہ ہیں، جبکہ انڈونیشیا، بھارت اور بنگلہ دیش میں قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔
ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں پاکستان اور سری لنکا سب سے اوپر ہیں۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت 1.392 ڈالر فی لیٹر جبکہ سری لنکا میں 1.424 ڈالر فی لیٹر ہے۔اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں ڈیزل کی قیمت صرف 0.932 ڈالر فی لیٹر اور بھارت میں 1.026 ڈالر فی لیٹر ہے۔
اب اگر صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیا جائے تو اس معاملے میں فلپائن اور پاکستان کے ٹیرف سب سے زیادہ ہیں۔ فلپائن میں صنعتی بجلی کی قیمت 0.209 ڈالر فی کلو واٹ آور جبکہ پاکستان میں 0.153 ڈالر فی کلو واٹ آور ہے۔اس کے برعکس بنگلہ دیش اور بھارت میں صنعتی بجلی کے ٹیرف بہت کم ہیں، جو بالترتیب 0.063 ڈالر اور 0.077 ڈالر فی کلو واٹ آور ہیں۔واضح طور پر پاکستان کی نسبتی مسابقتی پوزیشن پر بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہت زیادہ قیمتوں نے منفی اثر ڈالا ہے۔
مجموعی طور پر اگرچہ حالیہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو کچھ حد تک سراہنے کی ضرورت ہے، تاہم مناسب معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر مؤثر عملدرآمد، حکمرانی خصوصاً بدعنوانی کے خاتمے، اور انتظامی کارکردگی کے شعبوں میں مزید بہتری کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ پاکستان میں سست معاشی نمو کے عمل کو روکا جا سکے اور نجی شعبے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں آنے والی مسلسل کمی کو دوبارہ مثبت سمت میں تبدیل کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026