✕
مارکٹس

ایران پر حملہ منسوخ، جوہری معاہدے کی کوشش؛ تیل کی قیمتیں گر گئیں

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4.23 ڈالر، یعنی 4.8 فیصد کمی کے بعد 83.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ایک اور حملہ مؤخر کرنے اور تہران کے جوہری پروگرام پر فوری معاہدے کی کوشش، نیز آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھلوانے کی امید پر پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 4 ڈالر فی بیرل سے زائد گر گئیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 4.23 ڈالر یا 4.8 فیصد کمی کے بعد 83.70 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ تاہم، ابتدائی کاروبار کے دوران تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد قیمتوں میں کچھ بحالی بھی دیکھی گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 5.07 ڈالر یا 6 فیصد کمی کے بعد 79.60 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی معیاروں میں گزشتہ پیر کے بعد یہ ایک روزہ بنیاد پر قیمت اور فیصد کے لحاظ سے سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے اور عمان کے قریب متعدد آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد دونوں خام تیل کے معیاروں کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ ان واقعات نے سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا، جس کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے خلیج میں داخل ہو کر تیل لوڈ کرنے سے گریز کیا۔

کشیدگی میں کمی کے اشارے کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور بلا تعطل بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تاہم، اس مجوزہ معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔

کیا معاہدہ ممکن ہے؟

آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق، ”اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ہفتے بھی گزشتہ ہفتے جیسی صورتِ حال دہرائی جائے گی، جہاں معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئیں کیونکہ ایران اپنے مؤقف پر قائم رہا اور آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو بطور دباؤ استعمال کرتا رہا۔“

شپنگ ڈیٹا کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر سعودی تیل سے لدے دو آئل ٹینکر بحیرۂ احمر سے باب المندب آبنائے عبور کر گئے، تاہم آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں بحری آمدورفت کی رفتار سست رہی۔

برطانیہ میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے ہفتے سے اب تک آئل ٹینکروں پر مزید تین حملوں کی اطلاع دی ہے۔

دوسری جانب، تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں (اوپیک پلس) نے اتوار کو ستمبر سے یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کے کوٹے کی منظوری دے دی۔

تاہم، ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث خلیجی خطے، روس اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں تعطل پیدا ہونے کے سبب، رواں سال اوپیک پلس کی جانب سے ہر ماہ پیداوار میں کیے گئے مسلسل اضافے کے باوجود عالمی منڈی میں اضافی تیل دستیاب نہیں ہو سکا، جس کے باعث ان اضافوں کا قیمتوں پر بھی محدود اثر پڑا۔