اداریہ

اگلے سیلاب کا انتظار

  • اب المیہ یہ نہیں رہا کہ بارشیں تباہ کن شدت کے ساتھ آتی ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ملک اب بھی ان بارشوں کے لیے ایسے تیاری کرتا ہے جیسے یہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ ہو
شائع اپ ڈیٹ

ایک اور مون سون، ایک اور مرتبہ ہلاکتوں کی تعداد سو سے تجاوز، ایک بار پھر ہنگامی اجلاس، انتباہات اور امدادی کارروائیاں۔ اب تک یہ سلسلہ انتہائی تکلیف دہ حد تک معمول بن چکا ہے۔

جیسے ہی پاکستان ایک بار پھر شدید بارشوں کے ایک اور سلسلے کی زد میں آیا، سرکاری ردعمل ایک مرتبہ پھر ایک جاری تباہی کو سنبھالنے تک محدود رہا، بجائے اس کے کہ یہ ظاہر کیا جاتا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات سے حقیقی طور پر سبق سیکھا جا چکا ہے۔

اب المیہ یہ نہیں رہا کہ بارشیں تباہ کن شدت کے ساتھ آتی ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ملک اب بھی ان بارشوں کے لیے ایسے تیاری کرتا ہے جیسے یہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ ہو۔

یہ صورتحال موسمی حالات سے کہیں زیادہ پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔

مون سون کی سیلابی صورتحال کوئی غیر متوقع ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔ یہ ہر سال پیش آنے والا ایک معلوم واقعہ ہے۔ حکومتوں کو معلوم ہوتا ہے کہ بارشیں کب متوقع ہیں، کون سے اضلاع سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، کہاں نکاسی آب کا نظام بار بار ناکام ہوتا ہے اور کون سی آبادیاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مکانات گرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اس کے باوجود ہر سال وہی مناظر دوبارہ سامنے آتے ہیں: زیر آب سڑکیں، ابلتے ہوئے نالے، پانی میں ڈوبے محلے، منہدم مکانات، بجلی کی طویل بندش اور ایسے خاندان جو تباہی آنے کے بعد امداد کے منتظر ہوتے ہیں۔

اس سال بھی صورتحال مختلف نہیں رہی۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اب تک ایک سو سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ سیلابی پانی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بڑے حصوں کو متاثر کر رہا ہے۔ شدید بارشوں کے کئی دن بعد بھی پوری پوری آبادیاں پانی میں گھری ہوئی ہیں، بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور ہنگامی ادارے ان بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں جن کی پہلی بارش سے بہت پہلے پیش گوئی کی جا سکتی تھی۔

یقیناً کچھ حوصلہ افزا اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔

پنجاب محکمہ آبپاشی کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی آبی ذخائر کی نگرانی کے نظام کا آغاز ایک دانشمندانہ اقدام ہے، جو بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں کے آبی اعداد و شمار شیئر کرنے سے مسلسل انکار کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی معلوماتی تجزیہ باضابطہ معاہدوں کے تحت معلومات کے تبادلے کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتے، لیکن یہ کم از کم حکام کو صورتحال سے باخبر رہنے کی وہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں جو ماضی میں دستیاب نہیں تھی۔

ایسی جدت کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے حل بھی ضروری ہیں۔

تاہم صرف ٹیکنالوجی کمزور گورننس کا ازالہ نہیں کر سکتی۔

ہر مون سون ایک بار پھر انہی ادارہ جاتی خامیوں کو نمایاں کر دیتا ہے۔ نکاسی آب کے نظام مناسب انداز میں برقرار نہیں رکھے جاتے۔ تجاوزات قدرتی آبی گزرگاہوں میں مسلسل رکاوٹ ڈالتی رہتی ہیں۔ سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں طویل المدتی خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیرات جاری رہتی ہیں۔

امدادی کارروائیاں اس وقت بہتر ہوتی ہیں جب انسانی جانوں کا نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ انتظامی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اکثر ہنگامی صورتحال کے دوران بہتر ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔

بار بار قائم کیے گئے کمیشنز، تحقیقات اور اصلاحات کے وعدوں کے باوجود یہ ناکامیاں کئی دہائیوں سے جمع ہوتی آ رہی ہیں۔

یہ ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے قانونی جواب دہی کا فقدان ہے۔

حکومتی ادارے ہر مون سون سے پہلے تیاریوں کے اعلانات کرتے ہیں، لیکن جب یہ تیاریاں ناکافی ثابت ہوتی ہیں تو اس کی کوئی خاص ذمہ داری طے نہیں کی جاتی۔

حکام اپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہیں، کمیٹیاں دوبارہ تشکیل دی جاتی ہیں اور اگلے سال کی بارشیں ایک بار پھر وہی وضاحتیں اور جواز سامنے لے آتی ہیں۔

اس طرزِ عمل کو تبدیل کرنا ہوگا۔

اب ملک کو ایسی جامع قانون سازی کی ضرورت ہے جو سیلابی تیاریوں میں شامل ہر ادارے کی واضح قانونی ذمہ داریاں مقرر کرے۔

نکاسی آب کے ادارے، بلدیاتی انتظامیہ، آبپاشی کے محکمے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور مقامی حکومتیں محض انتظامی ہدایات کے بجائے قانونی طور پر نافذ العمل ذمہ داریوں کے تحت کام کریں۔

نالوں کی صفائی کی آخری تاریخیں، خطرناک انفراسٹرکچر کا معائنہ، ہنگامی آلات کی دستیابی اور سیلابی علاقوں کے انتظام سے متعلق اقدامات لازمی قرار دیے جائیں، جن کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور عوام کو ان کی رپورٹ فراہم کی جائے۔

جوابدہی صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

جہاں سرکاری غفلت کے باعث قابلِ روک تھام جانی یا مالی نقصان ہو، وہاں ذمہ داری واضح طور پر طے کی جانی چاہیے اور انتظامی کارروائی عمل میں آنی چاہیے۔

تیاریوں کو محض اجلاسوں کے انعقاد اور ہدایات جاری کرنے کی بنیاد پر کامیابی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اس کا معیار عملی نتائج ہونے چاہئیں: نکاسی آب کے فعال نظام، بروقت انخلا، محفوظ بنیادی ڈھانچہ اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کا تحفظ۔

موسمیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں پاکستان کے مون سون نظام کو مزید غیر یقینی اور تباہ کن بنا سکتی ہے۔ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ملک کی تیاری کا معیار مکمل طور پر انسانوں کے اختیار میں ہے۔

پاکستان نے کئی برس ہر مون سون کو ایک عارضی ہنگامی صورتحال سمجھ کر گزارا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ایک مستقل گورننس کے چیلنج کے طور پر تسلیم کیا جائے، جس کے لیے مستقل ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا، ملک ہر برسات کے موسم کے بعد ہلاکتوں کی گنتی کرتا رہے گا اور ان آفات سے نمٹنے پر فخر کرتا رہے گا جنہیں روکنے کے لیے اسے کہیں بہتر تیاری کرنی چاہیے تھی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026