اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 2 فلسطینی شہید، ادویات کے گودام تباہ
- امریکا کی ثالثی میں گزشتہ اکتوبر جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے
امریکا کی ثالثی میں گزشتہ اکتوبر جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود اسرائیل نے ہفتے کے روز غزہ میں دو الگ الگ حملوں میں دو فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور ایک اسپتال کے قریب ادویات ذخیرہ کرنے والے دو گودام تباہ کر دیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا اسرائیل نے حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق طے پانے والے معاہدے کو قبول کیا ہے یا نہیں۔
فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق غزہ شہر کے شیخ رضوان علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں دو فلسطینی شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملے میں حماس کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سے قبل ایک اور اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی غزہ کے علاقے دیر البلح میں واقع الاقصیٰ شہداء اسپتال کے ادویات ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دو گودام تباہ کر دیے گئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کی۔
حملے کے کئی گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے اسپتال کے قریب حماس کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ فوج کے مطابق غزہ میں حماس کے زیرِ استعمال اسلحہ ذخیرہ کرنے والے دیگر مقامات پر بھی حملے کیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائیاں شِن بیٹ انٹیلی جنس ایجنسی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے کہ مذکورہ مقامات پر واقعی اسلحہ موجود تھا۔
رائٹرز کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دیر البلح میں حملے کی جگہ پر کئی میٹر چوڑا گڑھا بن گیا، جبکہ اطراف میں ملبہ اور بظاہر طبی سامان بکھرا ہوا تھا۔ یہ مقام ایک گنجان خیمہ بستی کے قریب واقع تھا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملے میں ادویات رکھنے کے مزید دو گودام اور اسپتال کا آؤٹ پیشنٹ کلینک بھی متاثر ہوا، تاہم فوری طور پر کسی زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ تباہ ہونے والے گوداموں میں گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلاسز میں استعمال ہونے والی ضروری ادویات اور زخموں کے علاج کے لیے گاز سمیت دیگر طبی سامان رکھا گیا تھا۔
اسپتال کے ڈاکٹر خلیل الدقران نے کہا، ”اسرائیلی قبضے نے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔“
انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ”آدھی رات کے وقت فوج نے اسپتال کے طبی سامان سے بھرے گودام کو نشانہ بنایا اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔“
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے دیر البلح میں حملے سے قبل علاقے کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کی تھی۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم اگر انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ تحفظ ختم ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس اور دیگر مسلح گروہ اسپتالوں سمیت شہری تنصیبات کو اپنے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ادویات کے گوداموں کے قریب قائم خیمے میں رہنے والی بے گھر فلسطینی خاتون فاطمہ شراب نے بتایا کہ حملے میں 60 سے 70 افراد کے زیرِ استعمال خیمے تباہ ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ طبی علاج کے محتاج بہت سے افراد اسپتال کے قریب رہنے کی غرض سے انہی خیموں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
امریکا کی ثالثی میں گزشتہ اکتوبر جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران اسرائیلی حملوں میں 1,222 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ حماس شاذ و نادر ہی اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تفصیلات جاری کرتی ہے۔